اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

ہرپیس کا وائرس جِلدی کینسر کے علاج میں مددگار

datetime 27  مئی‬‮  2015 |

لند ن (نیوزڈیسک)محققین کا کہنا ہے کہ ہرپیس نامی جلدی بیماری کا جینیاتی طور پر تبدیل شدہ وائرس جلد کے کینسر کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔جرنل آف کلینکل اونکولوجی میں شائع ہونے والے تحقیقاتی نتائج کے مطابق ہرپیس کا یہ تبدیل شدہ وائرس جلد کے عام خلیوں کے لیے تو بےضرر ہے لیکن جب اسے کینسر زدہ خلیوں میں داخل کیا جاتا ہے تو یہ ایسا مواد خارج کرتا ہے جس سے کینسر کا مقابلہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔محققین کے مطابق ٹی- ویک نامی اس طریقہ علاج سے ’میلانوما‘ یا جلد کے کینسر کے کچھ مریضوں کی زندگی کئی برس تک بڑھائی جا سکتی ہے تاہم تاحال یہ علاج لائسنس شدہ نہیں ہے۔اگرچہ اس قسم کے کچھ علاج امریکہ اور یورپ میں پہلے ہی موجود ہیں لیکن محققین کو یقین ہے کہ ٹی – ویک ان میں ایک اچھا اضافہ ثابت ہو سکتا ہے۔یہ میلانوما کا پہلا علاج ہو گا جس میں کوئی وائرس استعمال کیا جائے گا۔اس طریقہ علاج پر تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور جنوبی افریقہ کے 64 ہسپتالوں میں زیرِ علاج 436 ایسے مریضوں پر تجربہ کیا جو ایسے سرایت کرنے والے میلانوما کا شکار تھے جس کا آپریشن نہیں کیا جا سکتا تھا۔برطانیہ میں اس تجربے کے مرکزی محقق اور انسٹیٹیوٹ آف کینسر ریسرچ لندن کے پروفیسر کیون ہیرنگٹن کا کہنا ہے کہ ’کینسر کے لیے ٹی – ویک جیسے وائرل علاج کے بارے میں جوش بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ یہ ٹیومر پر دوہرا حملہ کرتے ہیں اور نہ صرف کینسر زدہ خلیوں کو ختم کرتے ہیں بلکہ ان کے خلاف قوتِ مدافعت بھی بڑھاتے ہیں۔‘میلانوما برطانیہ میں چھٹا سب سے عام کینسر ہے اور اس سے ہر سال دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’چونکہ وائرل طریقہ علاج صرف کینسر زدہ خلیوں کو ہی نشانہ بناتا ہے اس لیے اس کے ضمنی اثرات عام کیموتھیراپی یا دیگر امیونوتھیراپیز کے مقابلے میں کم ہیں۔‘خیال رہے کہ میلانوما برطانیہ میں چھٹا سب سے عام کینسر ہے اور اس سے ہر سال دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔سورج کی خطرناک بالائے بنفشی یا الٹراوائلٹ شعائیں اس کینسر کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…