جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ماضی کی حکومتوں کی جانب سے ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیا گیا،وزیراعظم نے حکومت کو معلومات فراہم نہ کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ

datetime 3  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں کی جانب سے ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیا گیا، ہزاروں ایکڑ کی غیر استعمال شدہ سرکاری اراضی کو برؤے کار لا کر حکومتی خسارے کو کم اورترقیاتی عمل کو بھی مزید آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری املاک کے بارے میں حکومت کو معلومات فراہم نہ کرنے والے سرکاری اہلکاروں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائیگی،کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر کے حوالے سے

حکومتی پالیسی کے تحت قوائد و ضوابط کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے۔ بدھ کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت میں سرکاری املاک و اثاثوں کی نجکاری کے عمل میں اب تک کی پیش رفت پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیرِ خزانہ اسد عمر، وزیرِ اطلاعات چوہدری فواد حسین، وزیرِ نجکاری میاں محمد سومرو، ترجمان وزیرِ اعظم ندیم افضل چن ، سیکرٹری نجکاری، سیکرٹری پٹرولیم، چئیرمین سی ڈی اے و دیگر افسران شریک ہوئے ۔سیکرٹری نجکاری ڈویژن کی جانب سے حویلی بہادر شاہ اور بلوکی پاور پلانٹ، ایس ایم ای بنک، جناح کنوینشن سنٹر، ماڑی پٹرولیم میں حکومتی شئیرز کی فروخت، لاکھڑا کوئلے کی کان جیسی سرکاری املاک کی نجکاری کے حوالے سے اب تک ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں کی جانب سے ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیا گیا،ایک ایسا ملک جو روزانہ کی بنیاد پر تقریبا سات ارب روپے محض قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کے لیے خرچ کر رہا ہو وہاں غیر منافع بخش اثاثوں اور غیر استعمال شدہ املاک کو برؤے کار نہ لانا ناقابلِ فہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں ایکڑ کی غیر استعمال شدہ سرکاری اراضی کو برؤے کار لا کر نہ صرف حکومتی خسارے کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ ترقیاتی عمل کو بھی مزید آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری املاک کے بارے میں حکومت کو معلومات فراہم نہ کرنے والے

سرکاری اہلکاروں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ملک بھر میں کثیر منزلہ عمارات کی تعمیر کی اجازت دینے سے نہ صرف رہائشی مسائل کے حل میں مدد ملے گی بلکہ ان سرمایہ کاروں کو بھی سہولت میسر آئے گی جو کاروباری و دیگر مقاصد کے لئے مناسب عمارات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر کے حوالے سے حکومتی پالیسی کے تحت قوائد و ضوابط کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…