جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

عوام کو ریلیف دینے کیلئے وزیرِ اعظم عمران خان نے غیر قانونی گیس کنکشنز کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کا حکم جاری کر دیا

datetime 3  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن ) وزیرِ اعظم نے غیر قانونی گیس کنکشنز کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیس سسٹم میں کسی بھی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا بوجھ بالاخر عوام پر پڑتا ہے، سسٹم کی خامیوں اور انتظامی کوتاہیوں کا نتیجہ گیس کی قیمت میں اضافے اورصارفین پر بوجھ کی صورت میں نکلتا ہے،سسٹم کے موجودہ نقصانات کی شرح اور اس کے نتیجے میں عوام پر پڑنے والے بے جا بوجھ ناقابل قبول ہے۔ ان نقصانات پر قابو پانے کے لئے

ہر ممکن کوشش برؤے کار لائی جائے۔ وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت گیس کے زیاں کی روک تھام سے متعلق امور پر اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیرِ خزانہ اسد عمر، وزیرِ پٹرولیم غلام سرور خان، وزیرِ اطلاعات چوہدری فواد حسین، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری پٹرولیم، ایم ڈی سوئی ناردرن، ایم ڈی سوئی سدرن و دیگر افسران نے شرکت کی ۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ اس وقت گیس کا زیاں (یو ایف جی Unaccounted for Gas) سوئی ناردرن کے سسٹم میں تقریباً گیارہ فیصد جبکہ سوئی سدرن میں سولہ فیصد سے زائد خسارے کا باعث بن رہا ہے جس کی کل مالیت پینتالیس ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔ اس زیاں میں گیس چوری، لیکج و دیگر وجوہات شامل ہیں۔ نقصانات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ انیس ارب روپے چوری کی مد میں، سوا گیارہ ارب لیکیج جبکہ تقریباً ساڑھے چودہ ارب روپے سالانہ نقصان دیگر وجوہات کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ سیکرٹری پٹرولیم کی جانب سے گیس زیاں پر قابو پانے کے سلسلے میں اٹھائے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم عمران خان کہا کہ گیس سسٹم میں کسی بھی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا بوجھ بالاخر عوام پر پڑتا ہے۔ سسٹم کی خامیوں اور انتظامی کوتاہیوں کا نتیجہ گیس کی قیمت میں اضافے اورصارفین پر بوجھ کی صورت میں نکلتا ہے۔

سسٹم کے موجودہ نقصانات کی شرح اور اس کے نتیجے میں عوام پر پڑنے والے بے جا بوجھ ناقابل قبول ہے۔ ان نقصانات پر قابو پانے کے لئے ہر ممکن کوشش برؤے کار لائی جائے۔ بعض مقامات پر گیس کی مین لائن پر غیر قانونی کنکشنز اور اس غیر قانونی کاروائی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر کسی ممکنہ حادثے کے خدشے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ غیر قانونی کنکشنز کے خلاف نہ صرف فوری طور پر کریک ڈاؤن کیا جائے بلکہ گیس چوری میں معاونت فراہم کرنے والے گیس کمپنیوں کے اہلکاروں کے خلاف بھی سخت ترین کاروائی یقینی بنائی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…