جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان تحریک انصاف کے ایک اور ایم پی اے اعجاز خان جازی اپنی ہی حکومت کے خلاف پھٹ پڑے،کھری کھری سنادیں

datetime 2  اپریل‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے ایم پی اعجاز خان جازی اپنی ہی حکومت کے خلاف پھٹ پڑے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ ہماری حکومت کے دوران کسی کو ہسپتال سے چار سو روپے کی دوائی نہیں ملتی ۔انہوں نے کہاکہ ہیلتھ کارڈ کا اعلان کیا گیا ہے اللہ کرے کہ بن جائیں۔ انہوں نے کہاکہ راولپنڈی میں ہمارے حلقے میں جرائم بہت بڑھ چکے ہیں،راولپنڈی میں تبدیلی یہ آئی ہے کہ سی پی او 5 لاکھ روپے ایس ایچ او تعینات کرنے کے لیتا ہے۔انہوں نے کہاکہ راولپنڈی میں

ایس ایچ او 3 لاکھ روپے منتھلی لیتا ہے۔انہوں نے کہاکہ میرا فون 2 مہینے شرمندگی کی وجہ سے بند رہا ،لوگ اپنے کام کیلئے کال کرتے تھے اور ہمارے کام نہیں ہوتے ۔ انہورں نے کہاکہ پارٹی کا جھنڈا انصاف کی خاطر اٹھایا تھا لیکن انصاف لوگوں کو نہیں مل رہا۔انہوں نے کہاکہ اگر بھارتی جہاز نہ گرتا تو سیشن میں جاکر آواز بلند کرتا۔ انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کے ایم پی اے حلقہ کے عوام کو اپنی مجبوریاں بتائیں اور حکومت کے خلاف بولیں۔دریں اثناء پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے دور ان تحریک پاکستان کے رکن اسمبلی نور عالم خان پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر پھٹ پڑے اور کہا ہے کہ جو بھی وزیر خزانہ آتا ہے کہتاہے ملک دیوالیہ ہوگیا ہے ۔ منگل کو پی اے سی ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے دور ان پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ تحریک انصاف کے رکن اسمبلی نور عالم خان پھٹ پڑے۔ نور عالم خان نے کہاکہ جو بھی وزیر خزانہ آتا ہے کہتا ہے ملک دیوالیہ ہو گیا ہے ۔نور عالم خان نے کہاکہ عوام کے لیے ہر چیز ختم اور قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ کمیٹی میں مجھے پارٹی کا نمائندہ نہیں بلکہ عوام کا نمائندہ سمجھا جائے ۔ اجلاس کے دور ان پاور ڈویژن حکام نے بتایاکہ

نیپرا کے ساتھ مل کر ہر 3 ماہ بعد ٹیرف کا تعین کیا جائیگا۔سید نوید قمر نے کہاکہ آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ ہر 3 ماہ بعد عوام پر بجلی کا بل گریگا۔ حکام نے بتایاکہ گردشی قرضوں میں اضافے کی وجوہات جاننے کے لیے کام کیا جا رہا ہے ۔سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت میں بھی بجلی کے شعبے میں سبسڈی کو بجٹ میں شامل کیے جانے پر بات کی ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…