جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا میں 17 ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ اگلے مالی سال بجٹ میں شامل ،بڑا قدم اُٹھالیاگیا

datetime 2  اپریل‬‮  2019 |

کوہاٹ(این این آئی) صوبائی حکومت نے خیبرپختونخوا کے گیارہ اضلاع میں 17 سمال ڈیمز تعمیر کرنے کا منصوبہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں شامل کرکے منظوری کے لئے وفاقی حکومت کو بھیج دیا جس کا ابتدائی تخمینہ تقریباً26 ارب45 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔اس منصوبے کے تحت سب سے زیادہ 10سمال ڈیمز کوہاٹ سمیت صوبے کے چھ جنوبی اضلاع میں بنائیں جائیں گے۔

باخبر ذرائع کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی زیرصدارت پراونشل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (PDWP ) کے منعقدہ اجلاس میں خیبرپختونخوا کے گیارہ اضلاع کوہاٹ‘ کرک‘ ہنگو‘ بنوں‘لکی مروت‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ چارسدہ ‘نوشہرہ‘ مردان‘ صوابی اور ہری پور میں 17 سمال ڈیمز تعمیر کرنے کا منصوبہ منظوری کے لئے وفاقی حکومت کو بھیج دیا گیا ہے۔17 چھوٹے ڈیم پر مشتمل اس منصوبہ پرمجموعی لاگت کا ابتدائی تخمینہ تقریباً26 ارب44 کروڑ80 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے صوبائی سطح پر یہ منصوبہ قابل عمل قراردینے کے بعد وفاقی حکومت کو منظوری کے لئے پیش کردیا ہے تاکہ اگلے مالی سال2019-20 میں شامل کیا جاسکے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اس منصوبہ کے تحت ضلع کوہاٹ میں سماری پایاں ڈیم اور خٹک بانڈہ شکردرہ ڈیم‘ ضلع کرک میں مخ بانڈہ ڈیم‘ چشمہ اکوڑخیل ڈیم اور بروچ ڈیم‘ ضلع ہنگو میں تورہ وڑی ڈیم اورسروزئی ڈیم‘ ضلع بنوں میں روچا ڈیم‘ ضلع لکی مروت میں پیزوڈیم‘ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں کورا نالہ ڈیم اور شیخ حیدر زام ڈیم‘ ضلع نوشہرہ میں شہیدبانڈہ ڈیم اور زوانہ دروازگئی ڈیم‘ ضلع چارسدہ میں میاں پٹی ڈیم‘ ضلع مردان میں سرخہ وائی ڈیم‘ ضلع صوابی میں شیر درہ ڈیم جبکہ ضلع ہری پور میں بھرواسا ڈیم شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ صوبائی محکمہ انہار کی ذیلی ڈائریکٹوریٹ سمال ڈیمز نے تیار کیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…