پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

دریائے چناب پرڈیم بنانے کا فیصلہ،تفصیلات جاری

datetime 31  مارچ‬‮  2019 |

سرگودہا (آن لائن)دریائے چناب پر1 ارب 46 کروڑ 33 لاکھ کی لاگت سے ڈیم بنانے کا فیصلہ، 78میگا واٹ بجلی کی پیدوارمتوقع ، طالب والا سے چنیوٹ پل تک ڈیم کی تعمیر کے لیے کمشنر سرگودھاکی ہدایت پر پی سی ون مکمل ، سیوریج کے پانی کو ٹریٹمنٹ کے بعد دریاؤں میں ڈالنے کا بھی پلان تیار کر لیا گیاتفصیلات کے مطابق طالب والا سے چنیوٹ پل تک 1 ارب 46 کروڑ 33 لاکھ کی لاگت سے ڈیم تیار کیا جائے گا جس کے 15 دروازے پانی کے بہاؤ پر لگائے جائیں گے ،

جن سے 78 میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی، اپرجہلم کنال کے بہاؤ میں بارہ ہزار کیوسک تک کا اضافہ کیا جارہاہے تاکہ زرعی وتوانائی کی پیداوارکو منظم اور معتدل بنایا جاسکے ۔کمشنر سرگودہا ڈویژن نے محکمہ اریگیشن کے افسران کو ہدا یت کی کہ وہ کسانوں کو فصلوں کیلئے موسمیات کے مطابق پانی کی فراہمی کو یقینی بنائیں جبکہ ٹیل کے کسانوں کیلئے پانی کی کمی کو پورا کرنے کے انتظامات بھی کئے جائیں ۔ انہوں نے نہروں او رکھالوں کی بروقت بھل صفائی کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔ انہوں نے کہاکہ اریگیشن اور ڈرینج کا محکمہ سیوریج واٹر کو دریاؤں میں بہانے سے قبل اس کے ٹریٹمنٹ کیلئے پلانٹس کی فز یبلٹی بھی بنائیں تاکہ اس پانی کو مفید بنایا جاسکے ۔ سرگودہا ڈویژن سے تین دریا بہتے ہیں جن میں دریائے چناب ‘ دریائے جہلم اور دریا ئے سندھ شامل ہے جبکہ ان دریاؤں سے تین نہریں نکالی گئی ہیں جہاں سے 24ہزار 575 کیوسک آب پاش پانی فراہم کیا جارہاہے جبکہ 576 چینل بنائے گئے ہیں جن کی کل لمبائی 4ہزار 635میل ہے جبکہ ڈویژن سے 33 ڈرینز گزرتی ہیں جن کی کل لمبائی 1835 میل ہے ۔ ڈویژن میں 245 میل سیلابی بند بنائے گئے ہیں ۔انہوں نے بتایاکہ سرگودہا ڈویژن میں جناح بیراج اور چشمہ بیراج اہم ہیں ۔انہوں نے بتایا کہ سرگودہا ڈویژن کی 46لاکھ ایکڑ زرعی زمین کوجو نہری سرکلز سیراب کر رہے ہیں جن میں لوئر جہلم کینال اور تھل کینال اہم ہیں سال 2018-19 میں محکمہ اریگیشن کی 22 سکیمیں شروع کی گئی ہیں ۔ جن میں لنگر والا پل کے قریب سیلابی بند کی تعمیر بھی شامل ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…