اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

ٹریفک کا شور مو ٹاپے کا باعث بنتا ہے

datetime 27  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈ یسک )آپ مناسب نیند لیتے ہیں، غذا میں توازن رکھتے ہیں اور صحت مند سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے ہیں مگر اس کے باوجود موٹاپے کا شکار ہورہے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ اس کی وجہ آپ کا گھر ہو۔جی ہاں ایک نئی طبی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کسی مرکزی شاہراہ، ریلوے پٹری یا طیاروں کی گزرگاہ کے قریب رہائش لوگوں میں موٹاپے کا خطرہ دوگنا بڑھا دیتی ہے۔سوئیڈن کے کیرولینسکا انسٹیوٹ کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ٹریفک کا شور تناﺅ کی سطح کو بڑھا کر اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں جسم زیادہ چربی کا ذخیرہ یہ سوچ کر کرنے لگتا ہے کہ وہ بحران کی جانب بڑھ رہا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ٹریفک کا 45 ڈیسی بل تک کا شور نارمل ہے مگر اس میں ہر 5 ڈیسی بل کا اضافہ لوگوں کی کمر کے پھیلاﺅ کو 0.2 سینٹی میٹر تک بڑھا سکتا ہے۔تحقیقی ٹیم کے قائد ڈاکٹر آندرے پیکو کے مطابق ٹریفک کا شور عام ہے اورشہری علاقوں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں توسیع کے نتیجے میں ماحولیاتی اثرات مرتب کررہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ شور نیند کی خرابی اور جسم میں تناﺅ کا سبب بننے والے ہارمون کی شرح میں تبدیلیاں لاتا ہے جس سے کارڈیووسکولر سسٹم پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سڑک پر ٹریفک کے شور کے مقابلے میں ہوائی گزرگاہ کے راستے میں گھر ہونے سے موٹاپے کی جانب سفر دوگنا زیادہ تیزی سے شروع ہوجاتا ہے۔تحقیق کے مطابق توند یا کمر کا پھیپھلاﺅ سب سے نقصان قسم کی چربی کے نتیجے میں ہوتا ہے جو ذیابیطس جیسے امراض کا باعث بھی بنتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…