جمعہ‬‮ ، 17 جولائی‬‮ 2026 

کئی لازوال دھنوں کے خالق نثاربزمی کو مداحوں سے بچھڑے 12 برس بیت گئے

datetime 22  مارچ‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) معروف موسیقار نثار بزمی کو دنیا سے رخصت ہوئے 12 برس بیت گئے لیکن ان کی تخلیق کی گئیں لازوال دھنیں آج بھی سننے والوں کے کانوں میں رس گھولتی ہیں۔نثار بزمی 1924 میں بمبئی کے نزدیک خاندیش کے قصبے میں ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ نثار بزمی شروع سے ہی مشہور بھارتی موسیقار امان علی خان سے متاثر تھے تاہم انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز ریڈیو ڈرامے

‘‘نادر شاہ درانی’’ کی موسیقی ترتیب دینے سے کیا جب کہ بطور موسیقار ان کی پہلی فلم ’’جمنا پار‘‘ تھی جو 1946 میں ریلیز ہوئی، جس کے بعد ان کی موسیقی ہر فلمساز کی ضرورت بن گئی۔ انھوں نے تقریبا 40 بھارتی فلموں میں موسیقی کی ترتیب کی۔ ممبئی میں ان کا ستارہ اس قدر عروج پر تھا کہ لکشمی کانت پیارے لال جیسے موسیقار اْن کی معاونت میں کام کر چْکے تھے لیکن پاکستان فلم انڈسٹری کے معمار فضل احمد فضلی کے بلاوے پر انہوں نے بھارت چھوڑ کر پاکستان میں سکونت اختیار کرلی۔پاکستان میں قدم جمانا بھی کوئی آسان کام نہ تھا کیونکہ یہاں کے فلمی فلک پر بھی اْس وقت موسیقی کے کئی آفتاب اور مہتاب روشن تھے تو اس وقت پاکستان کی فلمی موسیقی میں خورشید انور اور رشید عطرے جیسے موسیقار چھائے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ بابا چشتی، فیروز نظامی، روبن گھوش، سہیل رانا اور حسن لطیف بھی اپنے فن کا جوہر دکھا رہے تھے۔ ان کی بطور موسیقار پاکستان میں پہلی فلم ’’ایسا بھی ہوتا ہے‘‘ تھی جس میں ان کے گیت’’محبت میں تیرے سرکی قسم ایسا بھی ہوتا ہے‘‘ پر احمد رشدی اور میڈم نور جہاں نے اپنی مدھر آوازوں کے جادو جگائے۔ جس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑکرنہیں دیکھا۔ ’صاعقہ‘،’انجمن‘، ’میری زندگی ہے نغمہ‘، ’خاک اور خون‘ اور ’ہم ایک ہیں‘ جیسی فلموں کی موسیقی تخلیق کی۔1966 میں انھوں نے ’’لاکھوں میں ایک‘‘ کی موسیقی مرتب کی تو پاکستان کی فلمی دنیا میں موسیقی سے تعلق رکھنے والے ہر شخص پر یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ بمبئی کا یہ موسیقار محض تفریحاً یہاں نہیں آیا بلکہ ایک واضح مقصد کے ساتھ یہاں مستقل قیام کا ارادہ رکھتا ہے جب کہ نثار بزمی کو ان کی فنی خدمات کے باعث پرائیڈ آف پرفارمنس سمیت کئی دیگر ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔نثاربزمی کو نیم کلاسیکی دھنوں سے لے کر فوک

اور پاپ میوزک کی دھڑکتی پھڑکتی کمپوزیشن تک ہر طرح کی بندشوں میں کمال حاصل تھا اسی لئے محمد رفیع، احمد رشدی، مہدی حسن اور نور جہاں جیسے منجھے ہوئے گلوکاروں کے ساتھ ساتھ انھوں نے رونا لیلٰی اور اخلاق احمد جیسی آوازوں کو بھی نکھرنے اور سنورنے کا موقع دیا۔ عظیم موسیقار 22 مارچ 2007 کو اس دارفانی سے کوچ کر گئے لیکن ان کی تخلیق کردہ موسیقی آج بھی کروڑوں لوگوں کو مسحورکردیتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…