پیر‬‮ ، 25 مئی‬‮‬‮ 2026 

پوسٹل سروسز اخراجات مد میں 71 ملین سے زائد کا ریکارڈ غائب، 7 کروڑ سے زائد کے اخراجات کی ادائیگیوں کا کچھ پتہ ہی نہیں؟ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

datetime 14  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد( آن لائن ) پوسٹل سروسز میں اخراجات کی مد میں 71 ملین روپے سے زائد کا ریکارڈ غائب ہونے کا انکشاف ہواہے۔ یہ انکشاف آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں کیا گیاہے ۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں ادارے کی جانب سے عدم تعاون کا شکوہ بھی کیا گیاہے۔آڈیٹر کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیاہے کہ 7 کروڑ 16 لاکھ روپے سے زائد کے اخراجات کی ادائیگیوں کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔

ریکارڈ میں روڈ ٹرانسپورٹرز کی 2 کروڑ 57 لاکھ سے زائد کہ ادائیگیاں بھی غائب پائی گئی ہیں۔4 کروڑ 29 لاکھ روپے سے زائد کی دیگر ادائیگیوں کا ریکارڈ بھی نہیں ملا۔رپورٹ کے مطابق علاج معالجے،معاوضوں اور پینشنز سمیت دیگر اخراجات کا ریکارڈ بھی نہیں دیاگیا۔ رپورٹ کے مطابق ڈیپارٹمنٹل اکانٹس کمیٹی اجلاس میں بھی معاملہ اٹھایا گیا۔آڈیٹر جنرل کی جانب سے متعلقہ افسران کے خلاف سخت ایکشن لینے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔آڈیٹر جنرل کے مطابق کروڑوں روپے کے متعلقہ ریکارڈ کو پیش نا کرنا احتسابی عمل میں رکاوٹ کے مترادف ہے۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ادارے کی جانب سے پیش کیا گیا جواب غیر تسلی بخش اور نا قابل قبول ہے۔اس سے قبل سامنے آنے والی ایک آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز(پی آئی اے) کو گزشتہ نو سال کے دوران سات ارب روپے سے زائد نقصان ہوا۔رپورٹ میں 2008 سے 2017 تک پی آئی اے کے کرپٹ اورنااہل افسروں کی کارکردگی کے بارے میں بھی ہوشربا انکشافات کیے گئے۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق ڈیلی ویجززکی بھرتی پر2409 ملین اورپائلٹس کی زائدادائیگیوں پر1437 ملین روپے خرچ کیے گئے ہیں جبکہ 457 جعلی ڈگریوں والے افسر اور ملازمین کی بھرتیوں سے کروڑوں روپے کا نقصان بھی ہوا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 4922 کنٹریکٹ ملازمین کوخلاف قانون ریگولرکرنے پربھی پی آئی اے کو 101 ملین روپے کا بوجھ اٹھانا پڑا جبکہ ادارے کو ٹرینی افسروں کی بھرتی پر901 ملین اور سیاسی اثرورسوخ سے بیرون ملک اسٹیشنزپرتعیناتوں ملازمین سے983 ملین کا نقصان ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…