منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاکستان پوسٹ کی اربوں مالیت کی زمین پر بااثر طبقے نے قبضہ کرلیا،افسران مافیا سے قبضہ چھڑانے میں ناکام، وزیر مراد سعید بھی خاموش

datetime 8  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد ( آن لائن ) پاکستان پوسٹ کی اربوں مالیت کی قیمتی زمین اور پلاٹوں پر بااثر طبقوں نے قبضہ کر رکھا ہے اس قبضہ میں پاکستان پوسٹ کے اعلیٰ افسران بھی ملوث ہیں۔ وفاقی وزیر مراد سعید نے پوسٹ کی زمین قبضہ مافیا سے واگزار کرانے پر خاموشی اختیار کرلی ہے۔ جبکہ محکمہ پوسٹ کے اعلیٰ افسران نے محکمہ کی زمین پر قبضہ ہونے بارے معلومات پر مبنی اہم فائل بھی گم کردی ہے۔

سرکاری دستاویزات میں پتہ چلا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں پوسٹ ماسٹر جنرل آفس کے قریب تین کروڑ مالیت کی 3250 سکوا ئر فٹ پر قبضہ کرلیا گیا ہے جبکہ پوسٹ ماسٹر جنرل کے نام 4 کنال زمین کی قیمت وصول کرنے کے باوجود انتقال ہی نہیں ہوا۔ پوسٹ ماسٹر جنرل کراچی سے پانچ کروڑ مالیت کی زمین پر قبضہ کیا گیا ہے ۔ سیالکوٹ میں 20 ملین مالیت کی زمین پر قبضہ کیا گیا ہے۔ پوسٹ ماسٹر جنرل راولپنڈی (جی پی او) صدر میں محکم کی قیمتی زمین جس کی مالیت 18 کروڑ سے زائد پر بااثر افراد نے قبضہ کرلیا ہے اس کے علاوہ لاہور‘ کوئٹہ ‘ حیدر آباد ‘ کراچی ‘ ڈیرہ اسماعیل خان اور پشاور میں محکمہ کی زمین پر قبضہ کیا گیا ہے لیکن متعلقہ حکام نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے ابتداء میں قبضہ والی زمین بارے اہم فائل گم کردی تاہم اب وزیر مملکت مراد سعید کے نوٹس میں معاملہ آنے کے بعد انہوں نے بھی خاموشی اختیار کر لی ۔ کیونکہ ادارہ کے کرپٹ افسران نے انہیں بھی اپنے دام میں رام کررکھا ہے۔ محکمہ پوسٹ کے پاس شہری علاقوں میں اربوں مالیت کی زمین سے جس پر کرپٹ افراد نے نظریں جما رکھی ہیں اور زمین کر ہڑپ کرنے پر تلے ہوئے ہیں جبکہ متعلقہ وزارت بھی خاموش ہے ملک کے ہر بڑے شہر کے مرکزی علاقے میں جی پی اوز موجود ہیں جن کے پاس اربوں مالیت کی زمین ہے جس پر قبضہ کای گیا بالخصوص جی پی او مری پر حکومت کے بڑے مافیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…