بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

ضمنی بجٹ کی منظوری، قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد 

datetime 6  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی) قومی اسمبلی نے اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود اپوزیشن کی تمام ترامیم مسترد کرتے ہوئے رواں مالی سال کا منی بجٹ قومی اسمبلی سے منظور کرلیا ہے،منی بجٹ کی منظوری کے دوران اپوزیشن کی جانب سے نعرے بازی کی گئی اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ بدھ کو اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزیر اسد عمر نے رواں مالی سال کا منی بجٹ منظوری کیلئے پیش کیا۔

منی بجٹ کی منظوری کے دوران اپوزیشن کی جانب سے نعرے بازی کی گئی اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کے باوجود قومی اسمبلی میں فنانس بل 2019 کثرت رائے سے منظور کرلیا جبکہ اپوزیشن کی تمام بجٹ تجاویز کو مسترد کردیا گیا۔فنانس بل منظوری کے لیے پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ اپوزیشن نے اہم معاملات اٹھائے ہیں، شہباز شریف چاہتے ہیں سب مل کر میثاق معیشت کریں، ہم ان کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہیں، معیشت جن مشکلات کا شکار ہے، ان سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ ملک کی لیڈر شپ ایک میثاق معیشت بنائے۔اسد عمر نے کہا کہ اپوزیشن کی تقریروں میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ زیادہ ہوتی ہے، اپوزیشن کی جانب سے کوئی ایک تجویز ہمارے سامنے نہیں رکھی جاتی، پچھلے 10سال میں معیشت کا جو حال ہوا وہ سب کے سامنے ہے، معیشت پر تنقید کرنے والے سیاستدان اپنے ادوار پر نظر ڈالیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ خوشی ہوئی شہباز شریف کو مہنگائی کی بھی فکر ہے، شہباز شریف معیشت کو گہری کھائی میں گرا کر گئے۔ انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ پرانے قرضے اتارنے کے لئے نئے قرض لے رہے ہیں،(ن) لیگ کی حکومت آئی تو 61 ارب ڈالر کے قرضے تھے لیکن جب ختم ہوئی تو قرضوں کا حجم 95 ارب ڈالر تک ہوگیا۔چیئرمین پیپلز پارٹی کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ آج تو بلاول بھٹو زرداری نے افراط زر کی بات کرکے کمال کردیا،

کاش انہیں اپنی حکومت میں افراط زر کی فکر ہوتی، پیپلزپارٹی دور حکومت کے پہلے 6 ماہ میں افراط زر کی شرح 10 فیصد تھی جب کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں افراط زر میں سب سے کم اضافہ ہوا۔واضح رہے کہ حکومت نے 23 جنوری کو قومی اسمبلی میں رواں مالی سال کا تیسرا بجٹ اور دوسرا منی بجٹ پیش کیا تھا، فنانس بل 2019 میں فائلرز کے لیے بینکنگ ٹرانزیکشن پر ود ہولڈنگ ٹیکس کے فوری خاتمے، شادی ہالوں کے ٹیکس میں کمی جب کہ موبائل اور سیٹلائٹ فونز پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کی تجاویز شامل ہیں۔ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد منی بجٹ سینیٹ میں پیش کیا جائیگا، ایوان بالا سے منظوری کے بعد اس کی منظوری صدر مملکت دیں گے۔

موضوعات:



کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…