بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

ہندو انتہا پسندوں کے تشدد سے شہید شاکراللہ کی میت کی حوالگی،بھارت نے بے حسی کی انتہا کردی،جسد خاکی کو جے پور سے کس شرمناک طریقے سے لایاگیا؟افسوسناک صورتحال

datetime 2  مارچ‬‮  2019 |

لاہور ( این این آئی) پاکستان کی طرف سے بھارتی پائلٹ کی رہائی کے جواب میں بھارت نے اپنی جے پور جیل میں ہندو انتہا پسندوں کے تشدد سے شہید ہونیوالے پاکستانی شہری شاکراللہ کی میت پاکستان کے حوالے کردی۔جے پور راجستھان کی جیل میں قیدشاکراللہ کو20 فروری کو انتہاپسند قیدیوں نے پتھروں سے حملہ کرکے شہیدکردیا تھا ۔

شاکراللہ کی میت راجستھان کے ایک ہسپتال کے سردخانے میں رکھی گئی تھی جبکہ میت واپس لانے کے لیے نئی دہلی میں پاکستانی سفارتخانے نے اہم کردار ادا کیا۔ بھارتی حکام کی جانب سے شاکر اللہ کی میت کو واہگہ بارڈر پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا ۔ اس موقع پر میت لینے کے لیے مقتول کی فیملی بھی واہگہ بارڈر پر موجود تھی۔اس موقع پر بھارت نے بے حسی کی انتہا کردی۔ شاکر اللہ کی میت کی بے حرمتی کی گئی اور جسد خاکی کو جے پور سے ایمبولینس کی بجائے مال بردار ٹرک کے ذریعے اٹاری بارڈر پہنچایا گیا۔ دیگر تجارتی سامان کے ساتھ شاکر اللہ کی میت کا تابوت لایا گیا۔ حالانکہ دنیا بھر میں میتیوں کو ایمبولینس کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔شاکر اللہ کے بھائی شہزاد نے کہا کہ ہم نے کل بھارت کوجیتا جاگتا بندہ دیا لیکن بھارت آج ہمیں لاش دے رہا ہے۔ بھائی نے بتایا کہ شاکراللہ کا ذہنی توازن درست نہیں تھا، وہ 2003ء بارڈرکے قریب میلہ دیکھنے گیا اور غلطی سے سرحد عبور کرگیا تھا، ہمیں 16 سال بعد معلوم ہوا کہ شاکر اللہ بھارتی جیل میں تھا جسے شہید کردیا گیاہے۔پچاس سالہ شاکراللہ کا تعلق پنجاب کے شہر سیالکوٹ سے تھا تاہم اس کا خاندان 30 سال قبل کراچی منتقل ہوگیا تھا۔واہگہ بارڈر پر کاغذائی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اہلخانہ میت لیکر آبائی علاقہ کو روانہ ہو گئے ۔  پاکستان کی طرف سے بھارتی پائلٹ کی رہائی کے جواب میں بھارت نے اپنی جے پور جیل میں ہندو انتہا پسندوں کے تشدد سے شہید ہونیوالے پاکستانی شہری شاکراللہ کی میت پاکستان کے حوالے کردی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…