منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

ہندو انتہا پسندوں کے تشدد سے شہید شاکراللہ کی میت کی حوالگی،بھارت نے بے حسی کی انتہا کردی،جسد خاکی کو جے پور سے کس شرمناک طریقے سے لایاگیا؟افسوسناک صورتحال

datetime 2  مارچ‬‮  2019 |

لاہور ( این این آئی) پاکستان کی طرف سے بھارتی پائلٹ کی رہائی کے جواب میں بھارت نے اپنی جے پور جیل میں ہندو انتہا پسندوں کے تشدد سے شہید ہونیوالے پاکستانی شہری شاکراللہ کی میت پاکستان کے حوالے کردی۔جے پور راجستھان کی جیل میں قیدشاکراللہ کو20 فروری کو انتہاپسند قیدیوں نے پتھروں سے حملہ کرکے شہیدکردیا تھا ۔

شاکراللہ کی میت راجستھان کے ایک ہسپتال کے سردخانے میں رکھی گئی تھی جبکہ میت واپس لانے کے لیے نئی دہلی میں پاکستانی سفارتخانے نے اہم کردار ادا کیا۔ بھارتی حکام کی جانب سے شاکر اللہ کی میت کو واہگہ بارڈر پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا ۔ اس موقع پر میت لینے کے لیے مقتول کی فیملی بھی واہگہ بارڈر پر موجود تھی۔اس موقع پر بھارت نے بے حسی کی انتہا کردی۔ شاکر اللہ کی میت کی بے حرمتی کی گئی اور جسد خاکی کو جے پور سے ایمبولینس کی بجائے مال بردار ٹرک کے ذریعے اٹاری بارڈر پہنچایا گیا۔ دیگر تجارتی سامان کے ساتھ شاکر اللہ کی میت کا تابوت لایا گیا۔ حالانکہ دنیا بھر میں میتیوں کو ایمبولینس کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔شاکر اللہ کے بھائی شہزاد نے کہا کہ ہم نے کل بھارت کوجیتا جاگتا بندہ دیا لیکن بھارت آج ہمیں لاش دے رہا ہے۔ بھائی نے بتایا کہ شاکراللہ کا ذہنی توازن درست نہیں تھا، وہ 2003ء بارڈرکے قریب میلہ دیکھنے گیا اور غلطی سے سرحد عبور کرگیا تھا، ہمیں 16 سال بعد معلوم ہوا کہ شاکر اللہ بھارتی جیل میں تھا جسے شہید کردیا گیاہے۔پچاس سالہ شاکراللہ کا تعلق پنجاب کے شہر سیالکوٹ سے تھا تاہم اس کا خاندان 30 سال قبل کراچی منتقل ہوگیا تھا۔واہگہ بارڈر پر کاغذائی کارروائی مکمل ہونے کے بعد اہلخانہ میت لیکر آبائی علاقہ کو روانہ ہو گئے ۔  پاکستان کی طرف سے بھارتی پائلٹ کی رہائی کے جواب میں بھارت نے اپنی جے پور جیل میں ہندو انتہا پسندوں کے تشدد سے شہید ہونیوالے پاکستانی شہری شاکراللہ کی میت پاکستان کے حوالے کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…