منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

جہاز گرانا ہماری عسکری فتح ہے ،بھارت او آئی سی کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہ رہا ہے ،شاہ محمودقریشی نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 1  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری کا پاک بھارت تنازعہ میں ثالثی کی پیشکش کرنا ہماری خارجہ پالیسی کی فتح ہے اور بھارت کے جہاز گرانا ہماری عسکری فتح ہے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کا او آئی سی اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ حکومت اور اپوزیشن کا متفقہ ہے اپوزیشن رہنماؤں نے کہا تھا کہ پاکستان کو او آئی سی کے اجلاس میں شرکت نہیں کرنی چاہئیے

ہم بھارت سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں لیکن بھارت او آئی سی کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہ رہا ہے بھارت کوشش کر رہا ہے کہ وہ کسی طرح او آئی سی کا ممبر بن جائے ماضی میں بھی مختلف ادوار میں وہ ایسی کوششیں کر چکا ہے، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ ہم لڑائی اور جنگ نہیں چاہتے اور امن کے خواہاں ہیں اگر بھارت کے جہاز ایل او سی کی خلاف ورزی نہ کرتے تو ہم انہیں نہ گراتے ہمیں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، ہم نے ایل او سی عبور نہیں کی بلکہ اپنی فضائی حدود میں کارروائی کی اگر بھارت مذاکرات کیلئے تیار ہے تو ہم بھی تیار ہیں میری روس کے وزیر خارجہ سے بات ہوئی انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے اور وہ پلیٹ فارم مہیا کرنے کو تیار ہے جس میں میں نے جواب دیا کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جب اپوزیشن نے او آئی سی اجلاس میں پاکستان کے شرکت نہ کرنے پر حمایت کی تھی تو اب اس کو مانے بھی مجھے او آئی سی اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر نہ کوئی شرم ہے اور نہ ہی کوئی گبھراہٹ ہے، انہوں نے کہا کہ اس وقت مودی سرکار دباؤ میں ہے انکے عوام کی رائے بدل گئی ہے بھارتی حکومت کی حکمت عملی پر سوال اٹھ رہے ہیں انکی اپوزیشن احتجاج کر رہی ہے بھارتی عوام کہہ رہے ہیں کہ یہ سارا ڈرامہ مودی نے اپنی سیاست کیلئے رچایا ہے، بین الاقوامی برادری کا پاک بھارت تنازعہ میں ثالثی کی پیشکش ہماری خارجہ پالیسی کی فتح ہے اور ان کے جہاز گرانا ہماری عسکری فتح ہے اب گیند بھارت کے کورٹ میں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…