منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے خودکش بمبار تیار کرنے کے الزام میں 52 مرتبہ سزائے موت پانے والے ملزم بہرام عرف صوفی بابا کو بری کردیا

datetime 1  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ نے خودکش بمبار تیار کرنے کے الزام میں 52 مرتبہ سزائے موت پانے والے ملزم بہرام عرف صوفی بابا کو بری کردیا۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل پراسیکیوٹر پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے سخی سرور دربار پر حملے کے لیے اور خودکش حملہ آور تیار کیے تھے جس کا ملزم نے اعترافی بیان دیا ہے۔چیف جسٹس نے ملزم کے بیان پر پولیس کا کوئی ثبوت عدالت میں پیش نہ کرنے پرحیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عجیب بات ہے کہ بچوں کو تیار کرنے والے کے خلاف ثبوت نہیں۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ صوفی بابا لوگوں کو جنت میں بھیجتا ہے؟ خود کیوں نہیں جاتا؟ خود کش حملہ کرنے والا بچہ تو درحقیقت خود نشانہ بنتا ہے۔بعدازاں عدالت نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ملزم خودکش حملے کے موقع پر موجود نہیں تھا، ملزم کے خلاف پراسیکیوشن نے کوئی ثبوت نہیں دیے لہٰذا ملزم کو شک کا فائد ہ دیتے ہوئے بری کیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ 3 اپریل 2011 میں ڈیرہ غازی خان میں سخی سرور کے مزار پر خودکش حملہ ہوا جس میں 50 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ٹرائل کورٹ نے ملزم کو اس الزام میں 52 مرتبہ سزائے موت اور73 مرتبہ عمر قید کی سزا سنائی تھی جب کہ ہائیکورٹ نے بھی ملزم کی سزا برقرار رکھتے ہوئے اپیل مسترد کردی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…