منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

بھارتی ایئرسٹرائیک کا دعویٰ،کتنا سچ کتنا جھوٹ؟ نیویارک ٹائمز،برطانوی اخبارداگارجیئن سمیت بڑے عالمی میڈیا اداروں کی رپورٹس

datetime 26  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے کے بعد انڈیا نے بھونڈے دعوے شروع کر دئیے لیکن بھارت کو یہ بات سمجھ لینی چاہئیے کہ دنیا پاگل نہیں ہے۔سچ تو یہ ہے کہ پاک فضائیہ کے طیاروں کی گھن گھرج نے بزدل بھارتی فضائیہ کے اوسان خطا کر دئیے۔پانپتے کانپتے بھارتی فضائیہ کے طیاروں کو بھاگنے کی اتنی جلدی تھی کہ جاتے جاتے اپنا پے لوڈ بھی چھوڑ گئے۔بھارت کے سر جیکل اسٹرائیک کے گذشتہ دعوے کی طرح اس بار بھی

جہاں پاک فوج کے ترجمان۔نے فوری رد عمل میں بھارتی جھوٹ کی قلعی کھول دی۔وہیں عالمی میڈیا نے بھی بھارتی دعووں کو آڑے ہاتھوں لیا۔نیویارک ٹائمز نے بھارتی دعوؤں کو بے پر کی اڑائی ہوئی خبر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت ٹھوس ثبوت کی فراہمی میں ناکام رہا۔اسی طرح برطانوی اخبار دی گار جیئن نے بھی بھارتی دعوی کو بڑھک قرار دیتے ہوئے کہا کہ مبالغہ آرائی پر مبنی دعوؤں پر یقین کرنا مشکل ہے۔سر جیکل اسٹرائیک نہایت ٹیکنیکل معاملہ ہوتا ہے۔جس میں شواہد کو چھپانا ممکن نہیں ہوتا۔تاہم بھارت اپنے دعوے میں کوئی ایک ثبوت بھی پیش نہیں کر سکا۔اد رہے کہ آج صبح بھارتی ایئر فورس کی جانب سے دراندازی کی کوشش کی گئی جس کے بعد پاک فضائیہ کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے بعد بھارتی طیارے فرار ہوگئے۔ ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کے مطابق آزاد کشمیر کے علاقے مظفر آبادمیں داخل ہونے کی کوشش کر کے بھارتی فضائیہ کے طیارے نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی خلاف ورزی کی۔ڈی جی آئی ایس پی آرنے بتایا کہ بھارتی فضائیہ نے لائن آفکنڑول کی خلاف ورزی کی، جس پر پاک فضائیہ فوری طور پر حرکت میں آئی جبکہ بھارتی طیارے واپس چلے گئے۔ معاملے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے ایک اور پیغام میں کہا کہ بھارتی طیاروں نے مظفر آبادسیکٹر سے گھسنے کی کوشش کی

جس پر پاک فضائیہ نے فوری اور بروقت کارروائی کی۔ جس کے باعث بھارتی طیارے نے عجلت میں فرار ہوتے ہوئے بالاکوٹ کے قریب ایک ہتھیار پھینکا تاہم خوش قسمتی سے اس سے کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ بھارتی دراندازی کے واقعے میں کوئی جانی یامالی نقصان نہیں ہوا تاہم پاک فضائیہ کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے بعدبھارتی طیارے فرار ہوگئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…