پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

یمن ،بمباری کے خوف سے علی صالح اور حوثی لیڈر مسلسل روپوش

datetime 25  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)یمن میں آئینی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والے حوثی لیڈر عبدالملک الحوثی اور سابق منحرف صدر علی عبداللہ صالح سعودی عرب کی قیادت میں جاری فضائی آپریشن میں بمباری کے خوف سے کسی خفیہ مقام پر روپوش ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب باغیوں کو مزاحمتی کارروائیوں اور فضائی حملوں میں غیر معمولی جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حوثی لیڈر عبدالملک الحوثی کی جانب سے گاہے بہ گاہے اپنے وفاداروں کو ہدایت اور مخالفین کو دھمکیوں پر مبنی بیانات سامنے آتے رہتے ہیں مگر وہ خود منظرعام پر نہیں آرہے۔ غالب امکان ہے کہ وہ کہیں سنگلاخ پہاڑوں میں روپوش ہیں۔یمنی ایوان صدر کے ذرائع کے مطابق حوثی لیڈر اس وقت جہاں کہیں بھی ہے۔ اس کی سیکیورٹی ایرانی جنگجو اور لبنانی حزب اللہ ملیشیا کے عناصرکررہے ہیں لیکن وہ کسی پہاڑی علاقے میں کسی غار میں روپوش ہیں جہاں خود اپنے وفاداروں سے بھی خطرہ دکھائی دیتا ہے۔عین ممکن ہے کہ حوثی لیڈر صعدہ گورنری کے حیدان جیسے پہاڑی علاقے میں رپوش ہوں کیونکہ یہ علاقہ افغانستان کے تورا بورا سے کافی مشابہت رکھتا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مران اور حیدان کے علاقوں میں ایرانی ماہرین نے حوثیوں کو ایک آپریشن کنٹرول روم بھی تیار کر کے دیا ہے جہاں سے ملک میں ہونے والی لڑائی کی مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔ اس وقت سعودی عرب کی قیادت میں جاری فوجی آپریشن “فیصلہ کن طوفان” میں صعدہ کے علاقے پر زیادہ توجہ مرکوز کی گئی ہے کیونکہ یہ علاقہ حوثیوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اتحادی طیاروں کی مسلسل بمباری کے بعد حوثیوں کی قیادت شہروں سے نکل چکی ہے۔ امکان ہے کہ وہ دور افتادہ غاروں میں روپوش ہوچکے ہیں۔صعدہ کے پہاڑی علاقوں کے علاوہ امکانی طور پر ذمار اور اس کے دیگر اضلاع میں بھی ایسی پہاڑی غاریں موجود ہیں جہاں باغی روپوش ہوسکتے ہیں۔جہاں تک سابق صدر علی عبداللہ صالح کا تعلق ہے تو ان کی کسی غار میں روپوشی کا امکان کم ہے لیکن وہ بھی بمباری کے خوف سے اپنے ٹھکانے مسلسل تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ ملک کے انٹیلی جنس اداروں کے ماہرین کا ایک گروپ تاحال علی صالح کا وفادار ہے اور وہی علی صالح کا تحفظ کررہے ہیں۔ علی صالح کی سیکیورٹی میں ری پبلیکن گارڈز اور نیشنل اسپیشل انٹیلی جنس فورس کے اہلکار شامل ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…