منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

بیوی کی موت کے بعد بیوی کی راکھ ایک سپر مارکیٹ کے ۔۔۔۔۔

datetime 25  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )جاپان میں ایک مرد کو اپنی بیوی سے اتنی نفرت تھی کہ اس نے موت کے بعد بیوی کی راکھ قبر میں دفنانے کی بجائے ایک سپر مارکیٹ کے ٹائلٹ میں بہا دی۔ لیکن بعد میں وہ اپنے کیے پر اتنا شرمندہ ہوا کہ خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ٹوکیو سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق جاپانی پولیس نے آج اتوار 24 مئی کے روز بتایا کہ اس جاپانی شہری کی عمر 68 برس ہے اور اسے اپنی بیوی سے شدید نفرت تھی۔ اپریل کے مہینے میں جب اس کی اہلیہ انتقال کر گئی تو آخری رسومات کے ایک مرحلے میں اس کی لاش کو جلا دیا گیا تاکہ اس کی راکھ کو دفنایا یا ہوا میں بکھیرا جا سکے۔اس خاتون کا شوہر بیوی کی راکھ لے کر اس کی تدفین کا بندوبست کرنے کی بجائے سیدھا ملکی دارالحکومت ٹوکیو کی ایک سپر مارکیٹ میں گیا، جہاں اس نے ان باقیات کو ایک پبلک ٹائلٹ میں بہا دیا۔ اس دوران زیادہ تر راکھ تو پانی کے ساتھ بہہ گئی لیکن ملزم کی بیوی کی کچھ ہڈیوں کی باقیات کو، جن میں چند دانت اور ٹھوڑی کی ہڈی بھی شامل تھے، فلش نہ کیا جا سکا تھا۔ اس پر ملزم تو موقع سے فرار ہو گیا تھا لیکن سپر مارکیٹ میں صفائی کے ذمے دار عملے نے پولیس کو اطلاع کر دی تھی۔جاپانی روزنامے یومی ی?وری شِمب?ون نے آج لکھا کہ پولیس اس واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد مسلسل چھان بین کے باوجود قریب چار ہفتوں تک اس بارے میں حقائق کا حتمی تعین نہ کر سکی کہ سپر مارکیٹ کے بیت الخلاء4 سے ملنے والی جسمانی باقیات کس کی تھیں۔ اس جرم کی وضاحت ملزم کے خود کو پولیس کے سامنے پیش کرنے پر ہی ہو سکی کہ اصل ماجرا کیا تھا۔اس جاپانی روزنامے نے آج لکھا کہ ملزم کے لیے عشروں پہلے اس کی شادی ایک ناخوشگوار تجربہ ثابت ہوئی تھی اور اسے اپنی بیوی سے نفرت تھی، جس کا انتقال 64 برس کی عمر میں بیماری کی وجہ سے ہوا تھا۔ ملزم نے پولیس کو بتایا، ”میرے اندر اپنی بیوی سے نفرت مسلسل بڑھتی رہی تھی۔ میں نے اپنی بیوی کے انتقال سے پہلے کی زندگی بڑی تکلیف میں گزاری۔“
لیکن بیوی کی لاش نذر آتش کیے جانے کے فوری بعد اس کی راکھ کے ساتھ ’ایسا سلوک‘ کرنے پر ملزم مسلسل احساس جرم کا شکار رہا اور اس نے خود کو پولیس کے حوالے کرنے کا فیصلہ بھی اسی ندامت سے نکلنے کے لیے کیا۔ٹوکیو پولیس نے ملزم کی شناخت ظاہر کیے بغیر ریاستی دفتر استغاثہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اب اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ آیا ملزم کے خلاف کسی انسانی جسم کو لاپرواہی سے کسی جگہ دانستہ چھوڑ دینے کے الزام میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انتقال کر جانے والے کسی انسان کی لاش کا بھی اس کی حتمی تدفین سے پہلے اتنا ہی احترام کیا جانا چاہیے جتنا کہ اس کی راکھ کا۔ جاپانی قانون کے مطابق کسی انسان کی راکھ صرف پہلے سے منظور شدہ کسی جگہ پر ہی دفن کی یا ہوا میں بکھیری جا سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…