منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان کے سابق چیف جسٹس اور ان کی اہلیہ گاؤں میں بچوں کو انگریزی پڑھانے میں مصروف،حیرت انگیز انکشافات

datetime 19  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ریٹائرڈ جواد ایس خواجہ کہتے ہیں کہ بیشتر جج صاحبان فیصلے انگریزی میں لکھتے ہیں لیکن انہیں انگریزی نہیں آتی۔سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ جو لاہور میں بیدیاں روڈ پر ٹھیٹر گاؤں میں قائم ہر سکھ اسکول میں بچوں کو انگریزی پڑھا رہے ہیں۔اس اسکول میں ان کی اہلیہ بھی بچوں کو پڑھاتی ہیں اور ان کے نواسے اور

نواسیاں بھی اسی اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ نجی ٹی وی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ جواد ایس خواجہ نے کہا کہ عدالتوں میں قومی زبان لکھی اور بولی جائے تو ملزمان کو پتہ چل سکے گا کہ عدالت میں ان سے متعلق کیا باتیں ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جج آئین کی پاسداری کا حلف اٹھاتے ہیں، آئین میں تو ذکر ہی قومی و صوبائی زبانوں کا ہے، اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا ہے۔جواد ایس خواجہ نے کہا کہ جب آئین اجازت نہیں دیتا تو جج صاحبان انگریزی میں فیصلہ کیوں لکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بیشتر عدالتوں میں اردو کی جگہ انگریزی زبان استعمال ہوتی ہے، ملزمان کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ وکلاء4 اور جج صاحبان اْن سے متعلق کیا گفتگو کرتے ہیں۔سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بیشتر ججز انگریزی میں فیصلے لکھتے ہیں لیکن انہیں انگریزی نہیں آتی۔تعلیمی پالیسی کے حوالے سے جواد ایس خواجہ نے کہا پاکستان میں بے شمار کمیشن بنے، حکومت خود دیکھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر تعلیم کسی کو انسان نہیں بناتی تو وہ تعلیم نہیں ہے۔جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے بطور چیف جسٹس 8 ستمبر 2015ء4 کو آئین کے تحت قومی زبان اردو کو ہر جگہ بطور سرکاری زبان اپنانے کا حکم دیا تھا، اس حکم پر عمل درآمد ہو جائے تو زبان کے حوالے سے درپیش مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…