پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

بھارتی حکمراں مسئلہ کشمیر پرامن طریقے سے حل نہیں کرنا چاہتے، حریت رہنما

datetime 25  مئی‬‮  2015 |

سری نگر / نئی دہلی(نیوز ڈیسک) بھارتی وزیردفاع کے بیان کے ردعمل میں حریت رہنماؤں نے کہاہے کہ بھارتی حکمراں مسئلہ کشمیر پرامن طریقے سے حل نہیں کرنا چاہتے۔ازادی پسند رہنماؤں یاسین ملک، فاروق احمد ڈاراور ظفر اکبر بٹ نے اپنے بیانات میں کہا کہ بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر کا بیان دراصل کشمیر میں بھارتی جرائم کا اعتراف ہے، بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گردوں نے گزشتہ کئی برس کے دوران ا?زادی پسند رہنماؤں، سیاسی کارکنوں، علما، دانشوروں، صحافیوں، خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد کو قتل کیا جو کشمیر کی تاریخ کا ایک المناک باب ہے۔ دریں اثنا بھارتی پولیس نے سری نگر میں تنازع کشمیر پر سیمینارکا انعقاد ناکام بنا دیا۔ بزرگ حریت رہنماسید علی گیلانی نے شوپیاں میں ا سیہ اور نیلوفر کے دہرے قتل اور بے حرمتی کے واقعے کے 6سال مکمل ہونے پر 29مئی کو قصبہ شوپیاں میں نماز جمعہ کے بعد ایک جلسہ عام منعقد کرنے اور 30مئی کو شوپیاں میں ایک روزہ ہڑتال کی کال دی ہے۔سری نگر میں ایک میڈیا انٹرویو میں سید علی گیلانی نے کہاکہ 8 لاکھ بھارتی فوجیوں کی موجودگی نے کشمیر کو دنیا کا سب سے زیادہ قابض فوجیوں کی تعیناتی والا خطہ بنا دیا ہے۔ نئی دہلی میں ایک میڈیا انٹرویو میں مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ بھارتی حکومت نے افضل گورو کومحض سیاسی وجوہ کی بنا پر پھانسی دی۔ انھوں نے کہا کہ نئی دہلی کے ایک ریستوران میں ڈنر کے دوران انھیں اس وقت کے بھارتی وزیر داخلہ سشیل کمار سنڈے نے فون پر بتایا تھا کہ انھوں نے افضل گورو کی پھانسی کے کاغذات پر دستخط کردیے ہیں اور انھیں اگلی صبح پھانسی دے دی جائے گی۔میں نے وزیر داخلہ سے کہا کہ کیا گورو کی پھانسی کو رکوایا نہیں جاسکتا جس پر انھوں نے کہا کہ نہیں کیونکہ وہ پھانسی کے کاغذات پر دستخط کر چکے ہیں، وزیر داخلہ نے ان سے کہا کہ وہ مقبوضہ وادی میں افضل گورو کی پھانسی پر ہونے والے ردعمل کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری اقدام کریں۔ عمر عبداللہ نے مزید کہ سابق بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ بے انت سنگھ کے قاتلوں کے ساتھ یکسر مختلف سلوک کیا گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ افضل گورو کو محض سیاسی بنیادوں پر تختہ دار پر لٹکایا گیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…