منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

روپے کی قدرمیں کمی کیوں ہوئی؟،حکومت نے اب تک کتنے ٹریلین کے قرضے لیے ؟اور کتنے واپس بھی کر دیئے ‘گورنر اسٹیٹ بینک کا حیرت انگیزانکشاف

datetime 18  فروری‬‮  2019 |

لاہور ( این این آئی) گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان طارق باجوہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے اسٹیٹ بینک سے قرضہ لیتے ہوئے کوئی حد عبور نہیں کی،تین ٹریلین کے قرضے لیے گئے اور دو ٹریلین واپس بھی کر دیئے ہیں ، رواں مالی سالی میں ملک کو کسی قسم کے مالی عدم استحکام کا سامنا نہیں ،ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے جسے ختم کرنے کیلئے کام کیا جا رہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی یونیورسٹی میں تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔طارق باجوہ نے کہا کہ رواں مالی سالی میں ملک کو کسی قسم کے مالی عدم استحکام کا سامنا نہیں ہے، ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے جسے ختم کرنے کیلئے کام کیا جا رہا ہے۔ابھی روپے کی قدر کم کرنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے اس سے درآمدکم ہوئی اور بر آمدات بڑھی ہیں۔گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اسٹیٹ بینک سے قرضہ لیتے ہوئے کوئی حد عبور نہیں کی،وفاقی حکومت نے تین ٹریلین کے قرضے ا سٹیٹ بینک سے لیے تھے اور دوٹریلین واپس کر دیئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 600 ارب روپے کے کیس بینکنگ کورٹ میں زیر التوا ہیں جنہیں جلد نمٹانے کے لئے کپسٹی بلڈنگ پر فوکس کررہے ہیں، جب تک یہ کیس چلتے رہے گے بینک اس رقم کو استعمال نہیں کرسکتا،عدالت کولکھا ہے کہ ہم اپنے خرچے پرججزکی ٹریننگ کرناچاہتے ہیں۔  گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان طارق باجوہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے اسٹیٹ بینک سے قرضہ لیتے ہوئے کوئی حد عبور نہیں کی،تین ٹریلین کے قرضے لیے گئے اور دو ٹریلین واپس بھی کر دیئے ہیں ، رواں مالی سالی میں ملک کو کسی قسم کے مالی عدم استحکام کا سامنا نہیں ،ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے جسے ختم کرنے کیلئے کام کیا جا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی یونیورسٹی میں تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…