اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

ایردوآن اور قطر کے درمیان مشکوک ڈیل سے ترکی کی قومی سلامتی کو خطرہ

datetime 9  فروری‬‮  2019 |

انقرہ(این این آئی)ترکی میں صدر رجب طیب ایردوآن کی حکومت نے دسمبر 2018 میں قطر کے ساتھ (محصول کاری کے) ایک مالی معاہدے کو پارلیمنٹ کے ذریعے منظور کرانے میں بڑی تیزی دکھائی۔ جس کے بعد ایردوآن نے اپنے ملک میں 20 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کی فوجی ٹینک بنانے والی فیکٹری کو چاندی کی طشتری میں رکھ کر بکتربند گاڑیاں بنانے والی ترک اور قطری مشترکہ کمپنی بی ایم اسی کے

حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کمپنی کو عصام سنجق چلاتے ہیں جو ایردوآن کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن بھی ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ترک پارلیمنٹ نے محصول کاری کے اس معاہدے کی کی منظوری دے دی۔ اس کے بعد ایردوآن نے 20 دسمبر کو ایک ایگزیکٹو آرڈیننس جاری کیا جس میں ٹینک سازی کی قومی کمپنی کے حقوق کو 25 برس کے لیے بی ایم سی کے حوالے کرنے کا اعلان کر دیا۔ واضح رہے کہ یہ کارروائی بنا شفافیت اور کسی بھی جانب سے بولی پیش کیے بغیر عمل میں لائی گئی۔خبروں سے متعلق انگریزی ویب سائٹ کی جانب سے افشا کی گئی دستاویزات کے مطابق قطر کی مسلح افواج بی ایم سی کمپنی میں 49.9فیصد حصص کی مالک ہے جب کہ عصام سنجق 25% اور اوزترک خاندان 25.1%. حصص کا مالک ہے۔البتہ انقرہ کے حلقوں میں گردش کرنے والی معلومات کے مطابق بی ایم سی کمپنی کے حقیقی مالک ایردوآن ہیں جب کہ عصام سنجق محض ترک صدر کے تجارتی مفادات کی دیکھ بھال کرنے والے ناظم ہیں۔یاد رہے کہ ایردوآن کا مقرب اوزترک خاندان سزا یافتہ قاتل اور ایک منظم جرائم پیشہ نیٹ ورک کے سربراہ غالب اوزترک کے واسطے سے مافیا سے تعلقات کے سبب مشہور ہے۔مذکورہ ویب سائٹ کی تحقیق اور حاصل شدہ دستاویزات کے مطابق قطر اور ترکی کے درمیان معاہدہ 5 دسمبر 2018 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا۔ اس دوران معاہدے کی جلد از جلد منظوری عمل میں لانے کے لیے قانون کی خلاف ورزی کی گئی اور دو کے بجائے صرف ایک پارلیمانی کمیٹی کو معاہدے کے متن کا جائزہ لینے کے لیے کہا گیا۔نورڈک مانیٹر ویب سائٹ کی تحقیق کے مطابق بی ایم سی کمپنی میں ترک شراکت داروں کے علاوہ قطر کے بھی بعض شہری حصص رکھتے ہیں اور وہ اس کے مینجمنٹ بورڈ میں کام

کر رہے ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان قطریوں کے نام عبد الل حمد النابت، محمد جابر محمد اور محمد العثمان ہیں۔ویب سائٹ کا کہنا تھاکہ ٹینکوں کی فیکٹری کی نج کاری ترکی کے موجودہ قوانین بالخصوص نج کاری کے قانون 4046 اور وزارت دفاع کے قیام کے قانون کے ساتھ متصادم ہے۔ یہ فیکٹری ترکی کی فوج کی ملکیت ہے لہذا اسے غیر ملکیوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔

علاوہ ازیں اس کی نج کاری کے ترکی کی قومی سلامتی پر اثرات مرتب ہوں گے۔ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر کہا کہ آج کوئی نہیں جو اس خطر ناک نج کاری کے عمل کو چیلنج کر سکے کیوں کہ ترکی میں قانون کی بالا دستی باقی نہیں رہی۔ علاوہ ازیں اس معاملے پر کوئی عدالت میں دعوی بھی نہیں دائر کر سکتا کیوں کہ ملک کی عدلیہ مکمل طور پر ایردوآن کے آگے سرنگوں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…