پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

فرانس میں خوارک کے ضیاع کو روکنے کے لیے سخت قوانین لانے کافیصلہ

datetime 23  مئی‬‮  2015 |

پیرس(نیوزڈیسک)فرانس میں قومی سطح پر خوارک کے ضیاع کو روکنے کے لیے سخت قوانین متعارف کرا نے کافیصلہ کیاگیاہے ۔مجوزہ قانون کے تحت خوردہ فروش مارکیٹوں کے لیےضایع ہو جانے والی غیر فروخت شدہ غذائی اشیاءکو کوڑے دانوں میں پھینکنا قانوناً جرم ہوگا جبکہ نئے اقدامات کی رو سے سپر مارکیٹوں کو ضائع شدہ خوارک خیراتی اداروں کو عطیہ کرنا ہوں گی۔ نئی قانون سازی کے تحت فرانس کی حکومت نے سپرمارکیٹوں پرکھانے پینے کی اشیائ کو ضائع کرنے پر پابندی عائد کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔بتایا گیا ہے کہ فرانسیسی حکومت 2025 تک قومی سطح پر خوراک کے ضیاع کو نصف کرنے کے اہداف پرکام کر رہی ہے اور یہ نئی حکمت عملی اس سلسلے میں کی جانے والی وسیع تر کوششوں کا ایک حصہ ہے۔ فرانسیسی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر نئے قانون کی منظوری دی ہے،جس کا مقصد سپر مارکیٹوں کی اس مشق پر پابندی عائد کرنا ہے جس میں غیر فروخت شدہ خوارک کو اس لیے تباہ کردیا جاتا ہے تاکہ وہ کھانے کے قابل نا رہ سکے۔فرانسیسی سوشلسٹ جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ اور سابق وزیرخوارک گئیوم گیراٹ جنھوں نے مسودہ قانون تیار کیا ہے، نے کہا کہ ‘یہ تکلیف دہ بات ہے کہ سپر مارکیٹوں کے کچرا دانوں میں خوردنی خوراک کے ساتھ بلیچ ڈالا جارہا ہے۔’مجوزہ قوانین کا اطلاق 400 مربع میٹر اور اس سے زیادہ بڑی مارکیٹوں پر ہوگا جو آئندہ سال جولائی میں خیراتی اداروں کے ساتھ رسمی معاہدوں پر دستخط کرنے کی پابند ہوں گی۔علاوہ ازیں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 75 ہزار یورو کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا یا پھر دو برس جیل کی سزا کاٹنی ہوگی۔ایک محتاط اندازے کے مطابق فرانس میں ایک شخص ہر سال اوسطاً 20 سے 30کلو خوارک کوڑا دان میں پھینک دیتا ہے جس کی مشترکہ قومی لاگت لگ بھگ 20 ارب یورو سے زیادہ ہے۔نئے قوانین کے تحت اسکولوں اور کاروباری اداروں میں خوراک کے فضلے پر ایک تعلیمی پروگرام بھی متعارف کرایا جائے گا جبکہ فروری سے فرانس میں تازہ کھانوں پر سے استعمال کی تاریخ کو بھی ہٹا لیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…