بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

وہ رقم جس سے کسی غریب بچے کا علاج ہو سکتاہے اسے آپ حج کی سبسڈی کیلئے کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟ اقرار الحسن بھی حکومت کے حق میں بول پڑے، انتباہ کر دیا

datetime 2  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت گزشتہ روز وفاقی کابینہ کااجلاس ہوا جس میں حج پالیسی 2019 ء کی منظوری دی گئی، حکومت حج پر سبسڈی نہیں دی ، اس حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ حج اور زکوٰۃ دو عبادات ہیں جو استطاعت رکھنے والوں پر واجب ہیں، سبسڈی کا مطلب یہ ہے کہ حکومت غریب لوگوں سے رقم لے کر حج کرائے،

یہ حج عبادت کی بنیادی فلاسفی سے ہی متصادم ہے، جس پر معروف صحافی اقرار الحسن نے ٹویٹ میں حکومت کے حق میں لکھتے ہوئے انتباہ کیا کہ ’’ سو فیصد اتفاق۔۔۔!! وہ پیسے جن سے کسی غریب کے بچے کا علاج ہو سکتا ہے، ان پیسوں سے آپ کسی کو حج کے لئے سبسڈی کیسے دے سکتے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ جمعرات کے روز وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 20 نکاتی ایجنڈے اور دیگر اہم امور پر غور کیا گیا،. حج پالیسی پلان 2019 بھی وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا گیا۔اجلاس میں وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے وفاقی کابینہ کو بریفنگ دی جس کے مطابق رواں سال ایک لاکھ 84ہزار سے زائد پاکستانی فریضہ حج ادا کر سکیں گے،سرکاری ٹور آپریٹرز کا حج کوٹہ 60فیصد ہو گا۔کابینہ نے پرائیویٹ پرائیویٹ ٹور آپریٹرز کا کوٹہ 40فیصد کرنے کی منظوری دے دی۔ حج درخواستیں آئندہ ماہ وصول کی جائیں گی۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2019ء میں کسی بھی قسم کی سبسڈی نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے،ساتھ ہی کسی قسم کی شکایت پر سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس بار 80 سال سے زائد عمر کے پاکستانی شہر ی بغیر قرعہ اندازی کئے حج ادا کر سکیں گے۔4لاکھ 36ہزار سے 4لاکھ 26ہزار تک کے اخراجات کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ حجا ج کو کسی قسم کے مسائل درپیش نہیں ہو نے چاہئیے۔کابینہ اجلاس میں ارباب شہزاد کو حج 2019ء کا سپروائزر لگانے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…