بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

’’سوات آکر ایسا لگ رہا ہے جیسے میں سوئٹزرلینڈ میں ہوں‘‘ سوئٹزرلینڈ کے سفیر نے پاکستان کی خوبصورتی کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے ،غیر ملکی سیاحوں کو کیا پیغام دیدیا؟

datetime 2  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سوئس حکومت گذشتہ 50سالوں سے پاکستان میں کئی ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ سوات اور سوئٹزرلینڈ کی زمین کی تزئین ایک جیسی ہے۔ سوات میں ہوتے ہوئے مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ میں  سوئٹزرلینڈ میں ہوں۔سفیرسوئٹزرلینڈ  بھی پاکستان کی خوبصورتی کے دیوانے نکلے ،’’ایکسپلورنگ خیبر پختونخوا‘‘ پروگرام کی ایک تقریب میں  خطاب کرتے ہوئےسوئس سفیر تھامس کولےنے کہا ہماری حکومت چاہتی ہے کہ اس ملک کی خوشحالی اور سیاحت کے شعبے میں ترقی کو فروغ ملے.

سوئٹزرلینڈ صرف شعبہ سیاحت کی وجہ سے جی ڈی پی کا 10 فیصد حاصل کرتا ہے۔خیبر پختونخوا میں سیاحوں کو اپنی طرف کھینچنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس موقع پر سینئیر وزیر پختونخواہ عاطف خان کا کہنا تھا کہ’’ کے پی ٹورازم اتھارٹی‘‘ کا قیام صوبے میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سیاحت کے ذریعے سے دنیا بھر میں پاکستان میں مثبت تصویر اجاگر کی جاتی ہے اور ہم نے چترال اور ہنزہ میں دو جگہیں دیکھی ہیں جہاں اسکینگ ریزارٹ بنائے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاح  یہاں کا رخ کر سکیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیبر پختونخواہ کے لوگوں کو امن اور خوشحالی کی ضرورت ہے اور سیاحت ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے ایک ذریعہ ہے۔عاطف خان نے پاکستان کی ترقی میں دلچسپی لانے کے لئے سوئٹزرلینڈ کی حکومت کی تعریف کی.عاطف خان نے مزید کہا کہ محکمہ سیاحت کے زیر اہتمام سوات،چترال اور ہزارہ میں کئی نئے مقامات پر سکی ریزارٹ بنا ئے جارہے ہیں جس کا انتظام نجی شعبہ کرے گا صوبے میں سیاحت کے فروغ کیلئے کے پی ٹورازم اتھارٹی کا قیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے جس کی منظوری کابینہ دے چکی ہے اسی طرح ہم وفاق کی سطح پر بھی سیاحت کے فروغ کے لئے ویزہ پالیسی میں رعایت دے رہے ہیں ہم نے مختصر عرصے میں سیاحت کے ذریعے دنیا بھر میں پاکستان کا امیج بہتر بنایا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…