بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

رمضان شوگرمل کیس میں سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف اور حمزہ شہباز مرکزی ملزم نامزد ،قومی احتساب بیورو نے اہم اقدامات کی منظوری دیدی

datetime 1  فروری‬‮  2019 |

لاہور (این این آئی) قومی احتساب بیورو (نیب )لاہور کے ریجنل بورڈ نے رمضان شوگرمل کیس میں سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف اور حمزہ شہباز کو مرکزی ملزم نامزد کرتے ہوئے کرپشن ریفرنس حتمی منظوری کے لئے ہیڈکوارٹر ارسال کرنے کے احکامات جاری کردئیے ، وزیراعظم کے سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں کرپشن ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کرنے کی منظوری دیدی گئی ۔

نیب لاہور کے ریجنل بورڈ کا اجلاس ڈائریکٹر جنرل شہزاد سلیم کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹر اور سینئر افسران نے شرکت کی ۔اجلاس میں رمضان شوگر ملز کیس میں جاری تحقیقات مکمل کرتے ہوئے کرپشن ریفرنس حتمی منظوری کیلئے نیب ہیڈ کوارٹر ارسال کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ۔ریفرنس میں سابق وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف اور ڈائریکٹر رمضان شوگر ملز حمزہ شہباز کو مرکزی ملزم نامزدکیا گیا ۔ ملزمان پر اختیارات کے ناجائز استعمال سے مبینہ طور پر 21 کروڈ روپے کی کرپشن کے الزام میں تحقیقات جاری تھیں۔ریفرنس چیئرمین ایگزیکٹو بورڈ کی حتمی منظوری کے بعد احتساب عدالت دائر کیا جائیگا۔سابق پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعظم ملزم فواد حسن فواد کیخلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے کیس میں تحقیقات مکمل ہوگئی ۔ریجنل بورڈ کیجانب سے ملزم فواد حسن فواد کیخلاف کرپشن ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کرنیکی منظوری دیدی گئی ۔ملزم فواد حسن فواد پر اختیارات کے ناجائز استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر 1 ارب سے زائد مالیت کے اثاثہ جات بنانے کا الزام ہے۔اجلاس میں ملزم علی جہانگیر صدیقی اور دوسرے ڈائریکٹر کیخلاف ایزگارڈ نائن کمپنی کیس میں جاری انکوائری کو انویسٹی گیشن کے مراحل میں داخل کرنیکی منظوری دی گئی ۔ملزم سابق سفیر علی جہانگیر صدیقی اور ڈائریکٹر پر مبینہ طور پر کم و بیش 11 ارب روپے کے غبن کے الزام میں تحقیقات جاری ہیں۔

بھاولپور اور رحیم یار خان کے لینڈ ایکویزیشن کلٹرز کیخلاف روڈ توسیعی منصوبے میں 31 ملین کی مبینہ کرپشن کے کیس میں ملزمان کی پلی بارگین درخواست منظوری کے احکامات جاری کردئیے گئے ۔ملزمان حسن محمود اور محمد فاروق پر بھاولپور تا رحیم یار خان روڈ توسیعی منصوبے میں مبینہ طور پر بوگس واؤچرز کے زریعے رقوم غبن کرنیکا الزام ہے۔ڈی جی نے لاہور نے کہاکہ نیب میں’’پسند نا پسند‘‘سے مبرا ہو کر تمام تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جا رہاہے۔نیب کا عزم لوٹی گء عوامی دولت کی واپسی اور “شفاف پاکستان” کا قیام ہے۔نیب لاہور تمام میگا کرپشن مقدمات کی انتہاء شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے جنہیں جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…