پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

سانحہ ساہیوال، گرفتاری کے بجائے ہولناک خونریزی کاارتکاب ،بات سپریم کورٹ تک پہنچ گئی، بڑا قدم اُٹھالیاگیا

datetime 21  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) گرفتاری کی بجائے ہولناک خونریزی کے ارتکاب پر حکومت پنجاب کے خلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی ۔ عدالت عظمٰی سے استدعا کی گئی ہے کہ ساہیوال میں شارع عام پر نہتے شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والے تمام جلادوں کو فی الفور اسلام آباد پولیس کی تحویل میں دیا جائے ۔

درخواست گزار نے کہا کہ 13 سالہ طالبہ کو گولویں سے چھلنی کر کے صوبہ پنجاب اپنی شجاعت اور جوانمردی کا مظاہرہ کر چکا اور عدالت کو یاد دلایا کہ اس سے قبل اسی صوبے نے ایک ڈی پی او کو محض اس لئے برطرف کر دیا تھا کہ اس نے ایک نوجوان خاتون کے ساتھ پولیس کی مبینہ بدسلوکی پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا تھا ۔ درخواست گزار نے کہا کہ گرفتاری پر شہری کا بنیادی حق ہے جو اسے اپنی جان کی سلامتی کے لئے قانونی داد رسی کا حق اور موقع فراہم کرتا ہے ۔ گرفتاری کے بنیادی حق کے لئے یہ 1973 ء کے آئین کے تحت پہلی درخواست ہے عدالت کے روبرو سوال اٹھایا گیا ہے کہ جو شخص گرفتاری میں مزاحمت نہیں کرتا کیا موت کے گھاٹ اتارا جائے گا ۔ درخواست گزار شاہد اورکزئی نے کہا کہ آئین کے تحت کوئی سرکاری ہتھیار کسی فرار ہونے والے شہری کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتا اور اسی اصول کے تحت سزائے موت کے لئے آتششیں ہتھیار کی بجائے پھانسی کا پھندا زیر استعمال ہے ۔ درخواست گزار نے اصرار کیا کہ درخواست کی سماعت میں لاہور ہائی کورٹ کے سابق ججوں کو شامل نہ کیا جائے ۔   گرفتاری کی بجائے ہولناک خونریزی کے ارتکاب پر حکومت پنجاب کے خلاف سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی ۔ عدالت عظمٰی سے استدعا کی گئی ہے کہ ساہیوال میں شارع عام پر نہتے شہریوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والے تمام جلادوں کو فی الفور اسلام آباد پولیس کی تحویل میں دیا جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…