پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

سی ٹی ڈی نے پولیس ساہیوال مبینہ پولیس مقابلے کی رپورٹ آئی جی پنجاب کو پیش کردی،آپریشن کس کے کہنے پر کیاگیا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 19  جنوری‬‮  2019 |

لاہور، ساہیوال (آن لائن) پنجاب پولیس کے کاؤنٹر ٹریرازم ڈیپارٹمنٹ(سی ٹی ڈی) نے ساہیوال میں ہونے والے مبینہ پولیس مقابلے کی رپورٹ انسپکٹر جنرل( آئی جی) پنجاب کو پیش کردی ہے جس میں ہلاک شدگان کو کالعدم تنظیم داعش کے دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔سی ٹی ڈی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حساس ادارے کی جانب سے ملنے والی موثر اطلاع پر آج ساہیوال میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا جس میں کالعدم تنظیم داعش سے منسلک چار دہشت گرد ہلاک ہوگئے

اور ان کے قبضے سے اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہفتہ کی صبح معتبر ذرائع سے یہ اطلاع موصول ہوئی کہ دہشت گرد اسلحے اور دھماکہ خیز مواد کے ساتھ ساہیوال کی جانب سفر کر رہے ہیں۔آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی کو بتایا گیا ہے کہ دہشت گرد پولیس چیکنگ سے بچنے کیلئے اپنی فیملیز کے ساتھ سفر کر رہے تھے اور ہفتے کی دوپہر بارہ بجے کے قریب ساہیوال ٹول پلازہ کے قریب سی ٹی ڈی ٹیم نے کار اور موٹر سائیکل پر سوار دہشت گردوں کو روکنے کی کوشش کی جس پر دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کردی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی ٹی ڈی ٹیم نے اپنے تحفظ کیلیے جوابی کارروائی کی اور جب فائرنگ کا سلسلہ رکا تو چار دہشت گرد جن میں دو خواتین بھی شامل تھیں اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک پائے گئے اور ان کے تین ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہے، فرار ہونے والوں میں دہشت گرد شاہد جبار، عبد الرحمان اور ایک نامعلوم فرد شامل ہیں۔ آئی جی پنجاب کو بذریعہ رپورٹ بتایا گیا ہے کہ فرار ہونے والے تین دہشت گردوں کا تعاقب کیا جارہا ہے اور تفتیش کے دائرہ کار کو بھی وسیع کردیا گیا ہے۔سی ٹی ڈی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ دہشت گرد امریکن شہری وارن وائن سٹائن اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کے اغوا میں ملوث تھے اور پنجاب میں داعش کے سب سے خطر ناک دہشت گرد ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…