پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

’’عمران خان کو کرپٹ نہیں سمجھتا‘‘ مولانا فضل الرحمان نے بڑا اعتراف کر لیا، ایسی بات کہہ دی کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا

datetime 19  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر اور متحدہ مجلس عمل کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں نظریاتی قوتیں بھی ہیں اور رواجی سیاست کے لوگ بھی موجود ہیں جو جاگیردارانہ سیاست کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمارے ملکی سیاسی اور اقتدار کے نظام میں اسٹیبلشمنٹ، جاگیردار اور سول بیورو کریسی کی تکون تھی جو ملک پر راج کرتے تھے،

ضیاء دور میں چوتھا عنصر صنعت کار بھی اس سسٹم کا حصہ بن گیا، مولانا فضل الرحمن کا پروگرام کے دوران کہنا تھا کہ عمران خان،آصف علی زرداری اور نواز شریف سمیت کسی کو بھی کرپٹ نہیں سمجھتا لیکن کیا صرف مالیاتی کرپشن ہی کرپشن ہوتی ہے، اسلامی معاشرے میں اخلاقی کرپشن کوئی معیار نہیں ہے، ریاست مدینہ میں اخلاقی جرم کی کوئی حیثیت نہیں ہے، ہم نے صرف مالی کرپشن پر ہی فوکس کر رکھا ہے اور جس طرح ہم کرپشن کو کنٹرول کرنے کا انداز اپنا رہے ہیں اس سے پیسہ جام ہو جاتا ہے،انہوں نے کہا کہ ایک ہے حرام کمائی،ایک ہے خلافِ قانون کمائی اور ایک ہے قانون کے مطابق کمائی،قانون کے مطابق جو کمائی ہے آپ کے ملک میں وہ تو سود کی کمائی کو بھی حلال قرار دے دیتے ہیں جو کہ شرعی طور پر حرام ہے،مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ تمام اپوزیشن پارٹیوں کا اصولی موقف ہے کہ الیکشن میں بدترین دھاندلی ہوئی ہے اور جعلی مینڈیٹ ملک پر حکمران ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت کو وقت دینا مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے،دیکھنا یہ ہے کہ ملکی حالات اس حکومت کو کتنا ٹائم دیتے ہیں، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میرے خیال میں تو ایک دن بھی اس جعلی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے،معاشی لحاظ سے یہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین دور ہے،عمران خان ووٹ لے کر نہیں آیا،وہ بغیر ووٹ کے لایا گیا ہے،وہ شوکت عزیز ہے اور اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے،مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ میں عمران خان کو پاکستانی سیاست کا حصہ نہیں سمجھتا،وہ باہر کے ایجنڈے پر ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…