منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

اسماعیلی برادری پر حملے میں ملوث ملزموں کی جانب سے جدید ایپ کے استعمال کا انکشاف

datetime 22  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)کراچی میں اسماعیلی برادری کی بس پر حملے کے مقدمے میں گرفتار ملزمان نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ وہ باہمی رابطے کے لیے ’ٹاک رے‘ نامی سافٹ ویئر استعمال کرتے تھے تاکہ ان کے رابطوں کا سراغ نہ لگ سکے۔اسماعیلی برادری کی بس پر حملے میں 45 افراد ہلاک ہوئے تھے اور سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں اس حملے کے الزام میں چار ملزمان سعد عزیز، طاہر حسین، اظہر عشرت اور حافظ ناصر کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جن میں سے تین اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔کراچی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق ملزمان سے برآمد ہونے والے موبائل فونز میں ’ٹاک رے‘ نامی سافٹ ویئر موجود تھا اور دوران تفتیش انھوں نے انکشاف کیا کہ ان کا آپس میں رابطہ اسی کے ذریعے رہتا تھا۔پاکستان میں ٹاک رے کا استعمال عام نہیں ہے۔ ایک آئی ٹی ماہر کے مطابق اس سافٹ ویئر کی مدد سے فون کو واکی ٹاکی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور انٹرنیٹ کی کم سپیڈ میں بھی یہ بہتر نتائج دیتا ہے۔واضح رہے کہ کراچی میں شدت پسندوں کی جانب سے وائبر کے استعمال کے بعد ماضی میں صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے وائبر اور وٹس ایپ کی سروس معطل کرنے کی درخواست کر چکی ہے۔تاہم کراچی پولیس کے افسر نے بتایا کہ اب جی ایس ایم لوکیٹر کے ذریعے وائبر کے استعمال کا بھی پتہ لگایا جا سکتا ہے۔دوران تفتیش ملزمان نے پولیس حکام کو یہ بھی بتایا ہے کہ اسماعیلی بس پر حملے کے واقعے کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کی گئی تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا یہ ریکارڈنگ پولیس کو ملی ہے یا نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…