پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

پاکستان اور آئندہ نسلوں کو بچانے کے لیے صرف ایک راستہ ہے؟ چیف جسٹس ثاقب نثار نے گائیڈ لائن دیدی

datetime 11  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پاکستان اور آئندہ آنے والی نسلوں کو بچانے کے لیے ڈیم بنانے کے سوا کوئی راستہ نہیں‘ سندھ طاس معاہدے کے تحت پانی نہیں مل رہا۔ ڈیم بنانے میں مجرمانہ غفلت ہوئی پاکستانی قوم کو ڈیم بنانے میں رکاوٹ ڈالنے والوں کا علم ہونا چاہیے۔ نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ایک کیس کی سماعت کے دوران

پتہ چلا کہ پانی کا بحران کتنابڑا ہے اورخدشہ ہے کہ پانی ختم نہ ہوجائے تو پاکستان کو بچانے اور آنے والی نسلوں کو بچانے کیلئے ڈیم بنانے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں انہوں نے کہا کہ پانی کیلئے ہم آج تک اپنے حق سے محروم ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت ہمیں پورا پانی نہیں مل رہا پانی کی کمی کو ڈیموں کے ذریعے ہی پورا کیا جاسکتا ہے ڈیم نہ بننے میں مجھے مجرمانہ غفلت نظر آتی ہے انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کے تنازع کے بعد اور ڈیم بنے دیامیر اور بھاشا کے لیے بجٹ میں فنڈز رکھنے کے باوجود نہیں بنائے گئے اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور واضح ہونا چاہیے کہ ڈیموں کی تعمیر میں کس نے رکاوٹ ڈالی اور اس کی کیا وجوہات تھیں انہوں نے کہا کہ ڈیم کی تعمیر میں زمین کے مسائل حل ہوگئے گلگت بلتستان اور کے پی کے کے درمیان جو مسئلہ تھا وہ بھی حل ہوگیا اگر پوری جدوجہد اور انہماک سے کام کریں تو 9 کی بجائے کم عرصے میں ڈیم مکمل ہوسکتا ہے انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں نے مشکل حالات میں ہر لحاظ سے ملک سے تعاون کیا ہے بیرون ملک پاکستانیوں سے بہت امید ہے ان کا مالی اور اخلاقی تعاون درکار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…