راولپنڈی ( آن لائن )موسم سرما اور برف باری سے لطف اندوز ہونے کے لئے ملکہ کوہسار مری کا رخ کرنے والے ہزاروں سیاح مری پولیس ،مری کے ہوٹلوں، تاجروں اور مقامی افراد کی بلیک میلنگ کا شکار ہونے لگے ، ہوٹلوں کے کمروں کے کرایوں،گاڑیوں کی پارکنگ فیس اورغیر معیاری و ناقص اشیائے خوردونوش سمیت اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں200گنا اضافے کے علاوہ مقامی افراد کی جانب سے سیاحوں کے ساتھ بدسلوکی اور لڑائی جھگڑوں کے واقعات میں اضافے کے باوجود بھی
پولیس خاموش تماشائی بن گئی جس سے سیاحوں نے مری کی بجائے نتھیا گلی سمیت دیگر پہاڑی مقامات پر توجہ مرکوز کر لی مری میں اہل خانہ کے ساتھ سیاحت کے لئے آنے والوں کے مطابق مری میں اس وقت ڈبل بیڈکمرے کا کرایہ7سے10ہزارروپے فی کمرہ وصول کیا جا رہا ہے جبکہ کھانوں میں چکن کڑاہی 2ہزار روپے فی کڑاہی اور مٹن کڑاہی کا ریٹ 3ہزار روپے فی کلو وصول کیا جا رہا ہے جبکہ روٹی20روپے اور چائے یا کافی 70سے100روپے فی کپ فروخت ہو رہی ہے اسی طرح گاڑی پارک کرنے کے لئے 100روپے فی گھنٹہ طلب کیا جاتا ہے سیاحوں کے مطابق من مانے نرخوں پر تحصیل مری کی انتظامیہ اور مقامی پولیس نے مکمل خاموشی اختیارکر رکھی ہے جبکہ فوڈ اتھارٹی مقامی افراد کے خوف سے یہاں کاروائی سے گریزاں ہے اور سیاحوں کی شکایات پر کسی قسم کی کوئی توجہ دینے کی بجائے الٹا انتظامیہ سیاحوں کو اہلیان مری کے تشدد سے ڈراتی ہے سٹی ٹریفک پولیس اور مری کے پرائیوٹ پارکنگ ٹھیکیداروں کی ملی بھگت سے ایسا ٹریفک پلان تشکیل دیا گیا ہے کہ جس سے مری آنے والی فیملیاں شدید اذیت سے دوچار ہیں ٹریفک وارڈن عام سیاحوں کی گاڑیوں کو دھکیل کر پارکنگ ٹھیکداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں جہاں سیاحوں سے پارکنگ فیس کی مد میں 100روپے فی گھنٹہ زبردستی وصول کیا جاتا ہے
موجودہ نرخوں میں کسی پر بھی بحث کرنے یا زائد ادائیگی سے انکار پر بچوں ، خواتین اور مردوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے سیاحوں نے مری میں ضلعی و ٹریفک پولیس اور انتظامیہ کی ہٹ دھرمی اور اہلیان مری کی جانب سے دور دراز سے آنے والے سیاحوں کی تضحیک و تذلیل پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ملک بھر سے مری آنے والے سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ ایک مرتبہ پھر بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مری بائکاٹ تحریک کا آغاز کیا جائے اور موسم سرما کے رواں سیزن میں مری کی بجائے کالام ، سوات ، نتھیا گلی سمیت دیگر سیاحتی مقامات پر توجہ دی جائے ۔