پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

روزانہ کی بنیاد پر 15 ارب روپیہ قرضہ لیا جارہا ہے، ملک کی نظریاتی شناخت کو تبدیل کیا جارہا ہے،مولانا فضل الرحمان نے سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 10  جنوری‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک کی نظریاتی شناخت کو تبدیل کیا جارہا ہے ،پاکستان کو اسلام کا نظریہ دیا گیا تھا ، ترقی اور مضبوط معیشت کی بات کرنے والے کو مودی کا یار کہا جاتا ہے اورآج کرتار پورا کھول کر دوستی کی پینگیں بڑھائی جارہیں ہیں۔پشاور کے نشتر ہال میں جے یو آئی کے سابق صوبائی امیر امان اللہ خان مرحوم کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک کی نظریاتی شناخت کو تبدیل کیا جا رہا ہے،

ملک کی مذہبی،سماجی اورجغرافیائی ساکھ کوآئین میں سمویاگیا، پاکستان کو ایک نظریہ دیا گیا وہ نظریہ اسلام کا نظریہ تھا،افسوس ہے کہ ہم نے اپنے نظریہ سے روح گردانی کی، 1973 کا آئین ایک مقدس صحیفہ ہے لیکن عمل نہیں کیا جارہا،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی کہا تھا کہ نیب کو ختم کردو لیکن نہیں مانا گیا،ترقی اور مضبوط معیشت کی بات کرنے والے کو مودی کا یار کہا جاتا ہے لیکن آج کرتار پورا کھول کر دوستی کی پینگیں بڑھائی جارہیں ہیں،قادیانیت اور یہودی لابی کو پروان چڑھانے کے لیے حکومت دی گئی،کب تک انگلی سے پکڑ کر انکو چلاتے رہیں گے،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ طاغوتی طاقتیں پاکستان میں گھناؤنا کھیل کھیل رہی ہیں،آج بھی پاکستان انہی طاقتوں کے زیر اثر ہے،جو کل کہتے تھے کہ قرضہ نہیں لیں گے اور آج کیا ہورہا ہے،روزانہ کی بنیاد پر 15 ارب روپیہ قرضہ لیا جارہا ہے،،زرمبادلہ کے ذخائر آدھے سے بھی کم رہ گئے،ڈالر کی قیمت کہاں تک پہنچا دی گئی،50 لاکھ گھروں کی تعمیر کرنی تھی ،غریبوں کے گھرگرادئیے گئے،کروڑوں نوکریاں دینی تھیں،کروڑوں نوجوانوں کو بے روزگار کردیا گیا،تعزیتی ریفرنس سے لیگی رہنماء امیر مقام اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…