پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

حکمران جماعت تحریک انصاف کے زیر استعمال 18خفیہ بینک اکائونٹس کا انکشاف ،لیکن یہ پکڑے کیسے گئے؟ دھماکہ خیز خبر نے شفافیت کے دعوئوں کا پول کھول دیا

datetime 10  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کے زیرِ استعمال 18 خفیہ بینک اکاؤنٹس کا انکشاف، سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا۔نجی ٹی وی ڈان نیوزکے مطابق اسٹیٹ بینک پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ حکمراں جماعت

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) ملک بھر میں 18 خفیہ بینک اکاؤنٹس استعمال کررہی ہے۔اسٹیٹ بینک نے شیڈول بینکوں سے حاصل کی جانے والی معلومات الیکشن کمیشن میں جمع کروائیں جس میں یہ بات سامنے آئی کہ پی ٹی آئی کے ملک کے مختلف شہروں میں کل 26 بینک اکاؤنٹس ہیں لیکن الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی معلومات میں صرف 8 کے بارے میں بتایا گیا۔دیگر 18بینک اکاؤنٹس جعلی یا غیر قانونی اکاؤنٹس کے زمرے میں آتے ہیں کیوں کہ پی ٹی آئی نے انہیں قانون کے تحت ای سی پی میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں ظاہر نہیں کیا۔خیال رہے کہ الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ کے ساتھ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جانب سے صداقت اور درستگی کا سرٹیفکیٹ بھی موجود تھا جو جمع کروانا ہر جماعت کے سربراہ کے لیے قانونی طور پر لازم ہوتا ہے۔مذکورہ معلومات منظر عام پرآنے سے اس بات کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ ان غیر قانونی اکاؤنٹس کی تفصیلات اور ان کی منی ٹریل وزیراعظم عمران خان اور گورنر سندھ عمران اسمٰعیل سمیت پی ٹی آئی کے اعلیٰ عہدیداروں کے لیے قانونی خطرے کا باعث بن سکتی ہیں کیوں کہ وہ ان اکاؤنٹس کے مرکزی یا شریک دستخط کنندہ بھی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ ان بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات جن میں سے 2 کراچی جبکہ ایک ایک پشاور اور کوئٹہ میں موجود ہے ، کی تفصیلات ڈائریکٹر جنرل

برائے قانون کی سربراہی میں گزشتہ برس اکتوبر میں ہونےوالے ای سی پی کی جانچ پڑتال کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آئیں۔خیال رہے کہ جولائی 2018 میں پی ٹی آئی کے بینک ریکارڈ اور اسٹیٹمنٹ کی لیے کی جانے والی درخواست کی تمام تر کوششوں کے خاتمے کے بعد الیکشن کمیشن نے اسٹیٹ بینک سے پارٹی کے بینک اسٹیٹمنٹس فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔جس کے بعد اسٹیٹ بینک

کی جانب سے تمام شیڈول بینکوں کے صدور کو 13-2009 کی مدت کے دوران پی ٹی آئی کی تمام بینک اسٹیٹمنٹس ای سی پی میں جمع کروانے کی ہدایت کی گئی تھی۔دلچسپ بات یہ کہ الیکشن کمیشن کی جانچ پڑتال کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے نمائندوں کی موجودگی میں جعلی یا غیر قانونی اکاؤنٹس کا انکشاف سامنے آنے کے بعد سے تحریک انصاف الیکشن کمیشن کے

ساتھ تعاون نہیں کررہی۔اس کی ایک جھلک اسکروٹنی کمیٹی کے بدھ کو ہونے والے طے شدہ اجلاس میں دیکھنے کو ملی جس میں تحریک انصاف کا کوئی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔چناچہ پی ٹی آئی کے بانی رکن اور درخواست گزار اکبر ایس بابر، بدر اقبال چوہدری کی سربراہی میں موجود ان کی قانونی ٹیم، الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل برائے قانون اور ڈیفنس اسٹیبلشمنٹ کے 2 سینئر آڈیٹرز

پر مشتمل اجلاس پی ٹی آئی نمائندوں کا ڈیڑھ گھنٹے تک انتظار کرنے کے بعد اسے ملتوی کردیا گیا۔اس بارے میں جب اکبر ایس بابر سے بات کی گئی تو انہوں نے اس سارے معاملے کو فنڈنگ کا بہت بڑا فراڈ قرار دیا اور کہا کہ اس کا صحیح اندازہ لگانے کے لیے فرانزک آڈٹ کی تفصیلات کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاہم انہوں نے پی ٹی آئی کے خفیہ بینک اکاؤنٹس کے انکشاف کے حوالے سے

معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا۔دوسری جانب تحریک انصاف مسلسل جانچ پڑتال کمیٹی کی کارروائی کو خفیہ رکھنے کی کوششیں کررہی ہیں اور اس مقصد کے لیے ای سی پی اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن بھی دائر ہے۔اس بارے میں جب پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری مالیات اظہر طارق سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے تمام مرکزی اکاؤنٹس کی تفصیلات جمع کروادی ہیں

جبکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے ای سی پی میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے حصول کے لیے بھی درخواست دی تھی۔لیکن گورنر اسٹیٹ بینک کی جانب سے کہا گیا کہ اس سلسلے میں تمام بینکوں سے براہِ راست رابطہ کریں، ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کچھ بینک اکاؤنٹس پارٹی کے صوبائی دفاتر کے ہوں اور ہوسکتا ہے کچھ اکاؤنٹس فعال بھی نہ ہوں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ای سی پی جانچ پڑتال کمیٹی اپنے اختیارات سے تجاوز کررہی ہے کیوں کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت ان کی بس یہ ذمہ داری ہے کہ وہ درخواست گزار اکبر ایس بابر کی جانب سے جمع کروائی گئی تفصیلات کی تصدیق کریں جو ابھی تک نہیں کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…