پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

تبدیلی ہوا میں اُڑ گئی، شیلٹر ہوم کے نام پہ غریبوں کو چونا لگا دیا گیا، فوٹو شوٹ اور میڈیا ریکارڈنگ کے بعد عوام کے ساتھ ایسا سلوک کر دیا گیا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا

datetime 4  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کے حکم پر عمل کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں نے کئی شہروں میں عارضی شیلٹر ہومز قائم کیے ہیں، سردیوں کے موسم میں بے گھر افراد کو شیلٹر مہیا کرنا بہترین تبدیلی ہے، نئے سال کے پہلے دن جناح ہسپتال میں صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد کو انتظامیہ نے بے وقوف بنا دیا،

صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد جیسے ہی ہسپتال کا دورہ کرکے واپس گئیں وہاں کی انتظامیہ نے شیلٹر ہوم کو بھی لپیٹنا شروع کر دیا، تیمار داروں کو استعمال کے لیے جو سامان دیا گیا تھا وہ بھی اٹھا لیا گیا، اس واقعہ کے دو روز بعد ہی اسی طرح کے مناظر دوبارہ دیکھنے کو آئے، راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال میں ادھورے شیلٹر ہوم کا افتتاح پوری ڈھٹائی سے کیا گیا، جب میڈیا نے معاملہ اٹھایا تو وزیر صحت کو صفائیاں دینا پڑ گئیں، ہولی فیملی ہسپتال میں ریت، سیمنٹ اور تعمیراتی سامان بکھرا پڑا ہے، ہسپتال میں مریضوں کے لواحقین کے لیے شیلٹر ہوم بن رہا ہے، فرش کی رگڑائی کے لیے مشینیں بھی موجود اور چار دیواری کی جگہ جالی لگائی گئی، اس ادھورے منصوبے کے افتتاح کا صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد نے فیتہ کاٹ کر کیا، جب یاسمین راشد سے سوال کیا گیا کہ یہ آپ نے کیا کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے ان سے یہی بات کی کہ آپ ابھی افتتاح کرا رہے ہیں تو جب یہ مکمل ہو گا تو کیا دوبارہ افتتاح کروائیں گے، یہ والا شیلٹر یہ نیا بنا رہے ہیں ابھی مکمل نہیں ہوا لیکن انشاء اللہ نیت مکمل کرنے کی ہے اس لیے افتتاح کر دیا، سخت سردی میں عوام نے عارضی چار دیواری کے اندر ٹھنڈے اور گندے فرش پر ہی ڈیرے جما لیے، مریضوں کے لواحقین نے بزدار حکومت کو ساتھ ہی کوسنا بھی شروع کر دیا کہ شیلٹر ہوم مکمل ہوتا تو افتتاح کرنا چاہیے تھا نامکمل افتتاح کرکے چلے جانا یہ بھی ایک زیادتی ہے۔ فیتہ کاٹتے ہی افتتاحی تختی ہٹا دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…