منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

کاؤنٹ ڈاؤن شروع،ن لیگ کا تحریک انصاف کی حکومت کو ’’ٹف ٹائم‘‘ دینے کا فیصلہ، آئندہ چند نوں میں کیا ،کیاجائے گا؟بڑے فیصلے کرلئے گئے 

datetime 4  جنوری‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی)اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن)نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے اداروں کو براہ راست نشانہ بنانے کی بجائے پی ٹی آئی حکومت کو ’’ٹف ٹائم‘‘ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔وفاقی حکومت کی ناتجربہ کار ی کو بنیاد بنا کر عوامی تحریک چلانے کے لیے مشاورت کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی کسی بھی ایسی تحریک کا حصہ نہیں بنا جائے گا

جس سے تحریک انصاف کو مستقبل میں عوامی مقبولیت حاصل ہو ۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلی قیادت کی جانب سے پارٹی کے اہم رہنماؤں کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ آئندہ چند نوں میں پریس کانفرنسز کے ذریعہ حکومت کی موجودہ ناکامیوں کو عوام کے سامنے لائیں۔ذارئع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کی پارلیمانی قوت نئے ارکان پر مشتمل ہے اور نا تجربہ کاری ان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اس کو بنیاد بنا کرپاکستان مسلم لیگ(ن)نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔پارٹی کی نئی حکمت عملی کے مطابق ہر پلیٹ فارم پر عوام کو اس با ت کا احساس دلایا جائے گا کہ موجودہ حکومت کی بدولت ملک میں بیروزگاری اور مہنگائی مزید بڑے گی۔ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ(ن)نے پیپلز پارٹی کی عدم اعتماد کی تحریک کی باتوں سے کنارہ کشی اس لئے اختیار کرلی ہے،وہ موجودہ حکمران کو سیاسی شہید نہیں بنا ناچاہتی ہے کیونکہ اپوزیشن کے اس عمل سے پاکستان تحریک انصاف کو مستقبل میں عوام کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر پزیرائی ملے گی ۔مسلم لیگ (ن)سمجھتی ہے کہ موجودہ حکومت خود اپنا بوجھ نہیں اٹھاپائے گی اور اپنی ناقص کارکردگی کے باعث خود ہی گرجائے گی ۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے اہم رہنماؤں کو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ آئندہ چند نوں میں پریس کانفرنسز کے ذریعہ حکومت کی موجودہ ناکامیوں کو عوام کے سامنے لائے اور صوبائی سطح پر پارٹی کے رہنماؤں کی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کارکنان کو سوشل میڈیا پر حکومت کی ناکامیوں کے خلاف متحرک کردیں۔

ذرائع کا کہناہے کہ اپوزیشن کی اس عمل سے موجودہ حکومت عوام کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنیں گی اور مستقبل میں حکمران جماعت عوام میں اپنی مقبولیت کھو دے گی۔ادھر مسلم لیگ (ن)کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی نے اداروں کو نتقید کا نشانہ بنانے کے حوالے سے اپنی پالیسی میں کلیدی تبدیلی کی ہے اور پارٹی کی سطح پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مستقبل میں اس طرح کے بیانات دینے سے گریز کیا جائے جس سے یہ تاثر ملے کہ ان کا ہدف کوئی ادارہ ہے ۔مسلم لیگ (ن)اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کے طور پر حکومت کی کارکردگی پر کھل کر تنقید کرے گی ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…