پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

مہمند ڈیم کی بولی میں رزاق داؤد کی کمپنی کو نوازنے کے دعوے ، چیئرمین واپڈامزمل حسین بھی بالاخر بول پڑے،حیرت انگیز انکشافات

datetime 3  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک ) چیئرمین واپڈا مزمل حسین نے کہا ہے کہ مہمند ڈیم کی بولی میں رزاق داؤد کی کمپنی کو نوازنے کے دعوے میں صداقت نہیں ، ٹھیکے میں شفافیت کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں پوائنٹ سکورنگ کررہی ہیں ۔ مہمند ڈیم پاکستان کیلئے ضروری ہے، بہت پہلے بن جانا چاہیے تھا۔ تاخیر سے صرف عوام کا نقصان ہوا۔ پانچ سالہ منصوبے کی بروقت فنڈنگ ہوئی تو وقت سے پہلے مکمل کرلیں گے۔

جمعرات کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا جنرل (ر) مزمل حسین نے کہا کہ مہمند ڈیم پاکستان کے لئے بہت ضروری ہے جسے کافی پہلے مکمل ہونا چاہیے تھا۔ مہمندڈیم کی تاخیر سے عوام کا نقصان ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ مہمندڈیم کی تاخیر سے عوام کا نقصان ہوا، مہمند ڈیم پانچ سالہ منصوبہ ہے لیکن اگر بروقت اور بلا تعطل فنڈز کی فراہمی جاری رہی تو پانچ سال سے پہلے ہی مکمل کرلیں گے ۔ چےئرمین واپڈا نے کہا کہ اس منصوبے پر چالیس سال قبل کام شروع ہوا تھا لیکن سابقہ حکومتوں کی عدم دلچسپی اور عالمی طاقتوں کی مداخلت کے باعث خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔ انہوں نے مہمند ڈیم کی بولی اور ٹھیکے کے معاملے پر مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کی کمپنی کو نوازنے کے دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ نومبر 2017میں اوپن بولی کے ذریعے 23کمپنیوں نے ٹینڈر کے کاغذات حاصل کیے جن میں سے پانچ کمپنیوں کے شارٹ لسٹنگ کا عمل مکمل ہوا ۔ عالمی ماہرین کی کمپنی نے چھ ماہ میں جانچ پڑتال کرکے پیپرا رولز ، پاکستان انجینئرنگ کونسل اور ورلڈ بینک کی رہنمائی میں ٹھیکہ دیا ہے۔ چےئرمین واپڈا نے کہا کہ مہمند سے پشور میں پانی کی قلت پوری ہوگی ۔ اس سے 12لاکھ ملین ایکڑ فٹ ہونے کے ساتھ 800میگاواٹ بجلی کی پیداوار اور 18ہزار ایکڑزمین سیراب ہوگی جبکہ چارسدہ مردان وادی مین سیلاب کا خدشہ ہمیشہ کیلئے ٹل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دیامیر بھاشا ڈیم او رمہمند ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے سے پاکستان بجلی کی پیداوارمیں خود کفیل ہو جائے گا۔

چےئرمین واپڈا نے کہا کہ ہمارا محکمہ سیاسی دباؤ میں نہیں آتا۔ تمام تر سیاسی دباؤ کے باوجود 24ماہ کی ریکارڈ مت میں نیلم جہلم پراجیکٹ کو مکمل کیا جس سے 969میگاواٹ بجلی حاصل ہورہی ہے اسی طرح تربیلا فو رکا منصوبہ مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ کچھی کینال میں 353کلومیٹر لمبی کینال لے جا کر ڈیرہ بگٹی کو پانی فراہم کیا گیا۔ چےئرمین واپڈا مزمل حسین نے سیاسی دباؤ کو پس پشت ڈال کر کام جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کو ہر سال دس سال کے عرصے مین ایک ڈیم بنا کردیں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…