اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

7سال قید کم ہے بڑھائی جائے، نواز شریف کو لینے کے دینے پڑگئے سزا معطلی کی درخواست مسترد ہونے کے بعد ایک اور بری خبر سنا دی گئی

datetime 2  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی فلیگ شپ ریفرنس میں بریت اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا میں اضافے کے لیے اپیل دائر کر تے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی کرپشن کے ٹھوس ثبوت پیش کیے، انہیں بری کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، محض شک کا فائدہ دے کر نواز شریف کو بری کرنا خلاف قانون ہے۔

تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب ) نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی فلیگ شپ ریفرنس میں بریت اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا میں اضافے کے لیے اپیل دائر کر دیں ۔نیب کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو اپیلیں دائر کی گئیں، ایک اپیل کا تعلق احتساب عدالت کی جانب سے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت اور دوسری العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم کی سزا میں اضافے کے لیے ہے ۔نیب نے احتساب عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی کرپشن کے ٹھوس ثبوت پیش کیے اس لیے انہیں بری کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ نیب نے موقف اختیار کیا کہ محض شک کا فائدہ دے کر نواز شریف کو بری کرنا خلاف قانون ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نواز شریف کے خلاف شواہد پر سزا سنائے۔نیب نے اپنی دوسری اپیل میں مقف اختیار کیا کہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کے خلاف مقدمہ ثابت کیا، احتساب عدالت سے نواز شریف کو ملنے والی 7 سال قید کی سزا کم ہے، اسے بڑھایا جائے۔نیب کا موقف ہے کہ نواز شریف پر جرم ثابت ہوچکا ہے اس لیے نیب آرڈیننس میں دفعہ 9 اے 5 میں زیادہ سے زیادہ سزا 14 سال قید ہے۔عدالتی عملے نے دونوں درخواستیں وقت ختم ہونے کے باعث واپس کر دیں، عدالتی عملے کے مطابق درخواست دائر کرنے کا وقت دن ایک بجے تک ہے،

عدالتی وقت ختم ہونے پرنیب کی دونوں اپیلیں واپس لوٹا دی تھیں تاہم رجسٹرار آفس نے درخواستیں وصول کر لیں۔دریں اثنا اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی سزا معطلی کیلئے درخواست اعتراض کے باعث واپس کر تے ہوئے درخواست مکمل کر کے دوبارہ جمع کرانے کی ہدایت کر دی ۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف نے العزیزیہ ریفرنس

میں اپیل کا فیصلہ ہونے تک ضمانت پر رہائی کی درخواست جمع کروائی تھی جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے پر رہائی کے لیے دائر درخواست پر اعتراض لگا دیا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے سابق وزیراعظم کی اپیل کو نامکمل قرار دے کر واپس کردیا اور درخواست پر اعتراضات دور کرکے اسے رجسٹرار آفس میں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…