اتوار‬‮ ، 16 اگست‬‮ 2026 

’’لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر احتجاج کروں گا‘‘ چیف جسٹس کاحکومت کیخلاف عوامی احتجاج کا حصہ بننے کا اعلان مگر کس چیز پر؟حیران کن خبر آگئی

datetime 1  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) سپریم کورٹ نے زلزلہ متاثرین امداد کیس میں چیئرمین ایرالیفٹیننٹ جنرل عمرحیات کو امدادی رقم منتقلی کی تفصیلات سمیت طلب کرتے ہوئے فنڈز کی فراہمی کی تفصیلات سے بھی آگاہ کرنے کا حکم د یدیا ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حکومت بتائے متاثرین کے لئے کتنی امداد آئی اور کہاں گئی، آگاہ کیا جائے حکومت کا متاثرین کی بحالی کے لئے کیا منصوبہ ہے،

ڈیم نہ بنا اور متاثرین کا مسئلہ حل نہ ہوا تو لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر احتجاج کروں گا،لٹے پٹے لوگوں کی امداد پوری دنیا سے کی گئی، دینے والے ہاتھ پل بھرمیں لینے والے بن گئے، متاثرین پرایٹم بم نہیں گرا تھا قدرتی آفت آئی تھی، امدادی رقم حکومت کے پاس امانت تھی لیکن حکومت نے متاثرین کی امانت میں خیانت کی، متاثرہ علاقوں میں اسکول اور اسپتال بھی نہیں،کے پی کے حکومت نے متاثرین کے لئے کچھ نہیں کیا، سرد موسم میں برفباری میں لوگ رہ رہے ہیں، متاثرین کی بحالی کا حکم دینا کیا اختیارسے تجاوز ہے، زمین کا تنازع بھی میرے دورے کے بعد حل ہوا، مجھ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ جوڈیشل ایکٹوسٹ ہوں۔ منگل کو چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں زلزلہ متاثرین امداد کیس کی سماعت ہوئی، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لٹے پٹے لوگوں کی امداد پوری دنیا سے کی گئی، دینے والے ہاتھ پل بھرمیں لینے والے بن گئے، متاثرین پرایٹم بم نہیں گرا تھا قدرتی آفت آئی تھی، امدادی رقم حکومت کے پاس امانت تھی لیکن حکومت نے متاثرین کی امانت میں خیانت کی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں چارگھنٹے کا سفرکرکے جا سکتا ہوں تو وزیر اعظم کیوں نہیں، ٹین کی چھتوں میں آج کی سردی میں رہنا ممکن نہیں، متاثرہ علاقوں میں اسکول اور اسپتال بھی نہیں، وزیراعظم کوسیشن جج کی رپورٹ بھجوائی لیکن کچھ نہ ہوا، وفاقی کابینہ خود بیٹھ کر

اس معاملے کو دیکھے، چاہتے ہیں کہ لوگوں کے مسائل حل ہوں اور ڈیم نہ بنا اور متاثرین کا مسئلہ حل نہ ہوا تو لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر احتجاج کروں گا۔درخواست گزارنے سماعت کے دوران کہا کہ وزیراعظم خود شوگراں گئے لیکن بالاکوٹ متاثرین کے پاس نہیں آئے،وزیراعظم کے دل میں درد ہوتا تووہ متاثرین کے پاس آتے، ہماری بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام اورملتان منتقل ہونے والی امدادی

رقم واپس کی جائے۔ڈی جی ایرا نے کہا کہ ایرا نے 10 ہزارمنصوبے مکمل کئے جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ کوئی ایک غسل خانہ بھی بنایا ہے تو بتا دیں، کے پی کے حکومت خود پر بہت فخرکرتی ہے لیکن کے پی کے حکومت نے متاثرین کے لئے کچھ نہیں کیا، سرد موسم میں برفباری میں لوگ رہ رہے ہیں، متاثرین کی بحالی کا حکم دینا کیا اختیارسے تجاوز ہے، زمین کا تنازع بھی

میرے دورے کے بعد حل ہوا، مجھ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ جوڈیشل ایکٹوسٹ ہوں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ متاثرین کا پیسہ میٹرواور بی آئی ایس پی پرخرچ ہوا، سڑک بنی نہیں، اسکول اسپتال بنا نہیں، کیا یہ منصوبہ زیر زمین بنائے گئے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم کو معاملہ کا علم ہی نہیں تھا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جس صوبے نے سب سے زیادہ پیار کیا

اسکا ہی وزیراعظم کو پتہ نہیں، ہمیں وزیراعظم کا جواب چاہیے۔عدالت نے چیئرمین ایرالیفٹیننٹ جنرل عمرحیات کو طلب کرتے ہوئے مکمل شدہ منصوبوں کی تفصیلات سمیت بی ایس پی اورمیڑومنصوبوں کیلئے امدادی رقم منتقلی کی تفصیلات بھی طلب کرلیں جب کہ فنڈز کی فراہمی کی تفصیلات سے بھی آگاہ کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ حکومت بتائے متاثرین کے لئے کتنی امداد آئی اور کہاں گئی، آگاہ کیا جائے حکومت کا متاثرین کی بحالی کے لئے کیا منصوبہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…