جمعہ‬‮ ، 13 مارچ‬‮ 2026 

پاکستان میں فضائی آلودگی کوروکنے کے لئے الیکٹرک کاریں متعارف کروانے کا فیصلہ،زبردست اعلان کردیاگیا

datetime 31  دسمبر‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی) مشیر وزیراعظم برائے ماحولیات ملک امین اسلم نے کہاہے کہ ملک میں بہت جلد فضائی آلودگی کوروکنے کے لئے جلد الیکٹرک کاریں چلیں گی‘موجودہ حکومت ملک میں 10ہزار بھٹوں کو 2020کے آخر تک زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کردے گی‘صوبہ پنجاب کے چند اضلاع اور بالخصوص لاہور میں 85سے90فیصد فضائی آلودگی ہندوستان میں فصلوں کی جلانے سے ہوتی ہے‘

دنیا میں فضائی آلودگی کے باعث 2018کے دوران 70لاکھ اموات رپورٹ ہوئیں جن میں60فیصد اموات براعظم ایشیا میں ہوئیں،فضائی آلودگی کا ہاٹ سپاٹ جنوبی ایشیا ہے جس میں آنے والی نسلیں متاثر ہورہی ہیں،فضائی آلودگی کے تدارک کے لئے عالمی اور علاقائی سطح پر اقدامات کئے جارہے ہیں،موجودہ حکومت وزارت پٹرولیم کی مشاورت سے لو کوالٹی فیول کو بہتر کوالٹی کا فیول متعارف کرا رہی ہے۔لاہور میں پر یس کانفر نس کے دوران مشیروزیر اعظم ملک امین اسلم نے کہا کہ پانچ سالوں میں بالخصوص لاہور شہراورملک بھر میں درخت اکھاڑے گئے جس کی وجہ سے آلودگی کا مسئلہ شدت اختیار کرگیاتحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے فضائی آلودگی کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیا اور ایک کمیٹی قائم کردی جس نے میڈیم ٹرم اور لانگ ٹرم اقدامات تجویز کئے ہیں۔گزشتہ سالوں میں کوئی فعال مانیٹرنگ سٹیشن موجود تھا نہ فضائی آلودگی اور ایئرکوالٹی انڈکس کا کوئی ڈیٹا موجود تھا۔موجودہ حکومت نے برسراقتدارآتے ہی مشینری کو آپریشنل کیا اور لاہور میں خصوصی طور پر 2پوائنٹ مانیٹرنگ سٹیشن قائم کئے ۔ایک واہگہ اور دوسرا جیل روڈ پر قائم کیا گیاجو 5کلومیٹر کے اطراف میں ایئرکوالٹی انڈکس کی ریڈنگ کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ یہ ڈیٹا روزانہ کی بنیاد پر محکمہ ماحولیات کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا جارہا ہے۔موجودہ حکومت نے فضائی آلودگی کا سبب بننے والے چندذرائع کی نشاندہی کی ہے۔ بھٹوں کا پرانی ٹیکنالوجی پرچلنا ، دھواں چھوڑنے والی گاڑیاں اور انڈیا میں کسانوں کا دھان کی فصلوں کو جلانا شامل ہیں۔

تحریک انصاف کی حکومت نے بھٹہ مالکان سے مل کرریڈ زون قائم کیا جس کے تحت 2ماہ بھٹے بند رہے ۔بھٹوں کی مسلسل مانیٹرنگ کی گئی ، 4ہزار بھٹوں کا چالان کیا گیا اور350بھٹے بند کئے گئے۔انہوں نے کہاکہ پائلٹ پراجیکٹ کے تحت ایک بھٹہ زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا گیا جو کہ شیخوپورہ کے نزدیک فنکشنل ہے۔موجودہ حکومت ملک میں 10ہزار بھٹوں کو 2020کے آخر تک زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کردے گی۔

صوبہ پنجاب کے چند اضلاع اور بالخصوص لاہور میں 85سے90فیصد فضائی آلودگی ہندوستان میں فصلوں کی جلانے سے ہوتی ہے ۔گزشتہ 100دنوں میں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف ایکشن لے کر 18ہزار کا چالان کیا گیا جس کے تحت 85لاکھ کا جرمانہ وصول کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت وزارت پٹرولیم کی مشاورت سے لو کوالٹی فیول کو بہتر کوالٹی کا فیول متعارف کرا رہی ہے۔ملک میں بہت جلد فضائی آلودگی کوروکنے کے لئے جلد الیکٹرک کاریں چلیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…