بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

’’پاکستان میں بینکر اور یونان میں خستہ حال مہاجر‘‘ یورپ میںسہانے مستقبل کے سپنےلیکر یونان پہنچنے والا پاکستانی نوجوان اپنی بیوی اور بچی کیساتھ آج کس حال میں ہے؟وہاں سے کیا اپیل کر دی

datetime 29  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا کے مختلف ممالک کے افراد یورپ کی جانب سے مہاجرین کو قبول کرنے کے اعلان کے بعد سے وہاں کا رخ کر رہے ہیں جن میں زیادہ تر تعداد شام، افغانستان، عراق اور دیگر اسلامی ممالک کے شہریوں کی ہیں جو جنگ کی تباہ کاریوں کے باعث یورپ کا رخ کر رہے ہیں تاکہ اپنا اور اپنے خاندان کی زندگیوں کو بچا سکیں۔یہ مہاجر مختلف راستوں سے

یورپ میں داخل ہو رہے ہیں اور ان میں سے بیشتر یونان میں پھنس چکے ہیں۔ ایسے میں چند ایسے ممالک کے شہری بھی شامل ہیں جو کہ یورپ میں زندگی گزارنے کی خواہش میں اپنے آبائی ممالک میں اچھی خاصی پرسکون زندگی اور ملازمتیں تیاگ کر مہاجر بن کر یورپ کی جانب سے محو سفر ہوئے تاہم اب وہ مختلف جگہوں پر مہاجر کیمپوں میں پھنس چکے ہیں۔ ایسے ہی ایک پاکستانی نوجوان رحمت اللہ خان بھی ہیں جو کہ پاکستان میں بینکر تھے تاہم یورپ میں زندگی گزارنے کی خواہش میں اپنی اہلیہ رباب مرزا کے ساتھ مہاجر بن کر یورپ کی جانب محو سفر ہوئے اور یونان کے راستے یورپ میں داخل ہونا چاہتے تھے ، تاہم یونان کے علاقے لیسبوس میں وہ موریا مہاجر کیمپ میں کئی ماہ سے پھنسے ہوئے ہیں۔ جہاں شدید سردی ہے اور مہاجرین کو خیموں میں دن گزارنے پڑ رہے ہیں ، اس کیمپ میں 11ہزار مہاجرین کے پاس نہ تو گرم کپڑے اور نہ ہی خوراک ہے ۔ انتہائی کسمپرسی کے عالم میں یہاں ہزاروں مہاجرین کیمپ میں موجود ہیں۔ جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے رحمت اللہ خان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی سن رہا ہے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہاں کئی خاندان رہ رہے ہیں اور سردی آرہی ہے ، فیملیز کیلئے رات کے وقت یہاں قیام بہت مشکل ہے، بچے اتنی سردی برداشت نہیں کر سکتے، یہاں ایسے خاندان بھی ہیں جن کے ہاں 10یا 12دن قبل بچوں کی ولادتیں ہوئی ہیں۔

اس موقع پر رحمت اللہ خان کی اہلیہ رباب مرزا نے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں سب مائوں کی بات کر رہی ہوں، ان کے پاس بچوں کیلئے کپڑے نہیں ہیں، سردی آرہی ہے اور بچوں کے جوتے بھی نہیں، بچوں کیلئے کھلانے کیلئے کچھ نہیں اور پیسے بھی نہیں ہیں۔ میں کیا کہوں، اس موقع پر رباب مرزا اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور رو پڑیں۔ رحمت اللہ خان اور ان کی اہلیہ رباب مرزا واحد پاکستانی نہیں جو کہ یورپ میں زندگی گزارنے کے خواب سجائے اچھی خاصی زندگی چھوڑ کر اب مہاجر کیمپ میں سخت ترین حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں بلکہ ان جیسے درجنوں پاکستانی اس وقت مہاجر کیمپوں میں کسمپرسی کا شکار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…