ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ترک فوج کی شام میں موجودگی چڑھائی کے زمرے میں آتی ہے،جرمن پارلیمنٹ

datetime 27  دسمبر‬‮  2018 |

برلن(این این آئی)جرمنی کی پارلیمنٹ کے لیے ماہرین کی تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکی کی شام میں فوجی موجودگی بین الاقوامی قانون کے مطابق اس ملک پر چڑھائی کے معیار پر پورا اْترتی ہے۔جرمن ٹی وی کے مطابق جرمن لیفٹ پارٹی کی درخواست پر پارلیمان کی

ریسرچ سروس نے یہ رپورٹ تیار کی ۔اس میں ترک فوج کی شام کے شمالی علاقے میں موجودگی کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا گیا ہے۔ترکی کا اس وقت شام کے شمال مغرب میں ایک بڑے علاقے پر کنٹرول ہے۔اس میں سرحدی شہر الباب ، جرابلس اور اعزاز بھی شامل ہیں۔ ترک فوج اور اس کے اتحادی شامی باغیوں نے اگست 2016ء میں داعش کے خلاف شروع کیے گئے آپریشن فرات کی ڈھال کے دوران میں ان علاقوں پر قبضہ کیا تھا۔ترکی نے اس سال شام کے شمال مغربی صوبے عفرین پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔اس پر پہلے کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس ( وائی پی جی) کا کنٹرول تھا۔ ترکی اس کرد ملیشیا کو اپنے جنوب مشرقی علاقوں میں ترک سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار کرد باغیوں کے کالعدم گروپ کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کی توسیع قرار دیتا ہے۔ترکی نے اس مسلح گروپ کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔جرمن ماہرین کی رپورٹ کے مطابق جب شام کے شمال میں عفرین ، اعزاز ، الباب اور جرابلس میں ترکی کی فوجی موجودگی کا جائزہ لیا گیا ہے تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ موجودگی بین الاقوامی قانون کے مطابق فوجی چڑھائی کے معیار پر بالکل پورا اترتی ہے۔جرمن پارلیمان میں لیفٹ پارٹی کی ڈپٹی چیئرمین سیویم داغدلین نے چانسلر اینجیلا میرکل کی حکومت کو شام میں ترکی کی فوجی سرگرمیوں کا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے طور پر جائزہ نہ لینے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ ایک سکینڈل ہے کہ ترکی نیٹو کے ایک اتحادی کی حیثیت سے شام کے بعض علاقوں میں داخل ہوا ہے اور اس کی فوجی چڑھائی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے طور پر نہیں دیکھا جارہا ہے حالانکہ تمام ماہرین کی رپورٹس میں اس کو خلاف ورزی ہی قراردیا گیا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کا بھی یہی موقف ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…