اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

ترک فوج کی شام میں موجودگی چڑھائی کے زمرے میں آتی ہے،جرمن پارلیمنٹ

datetime 27  دسمبر‬‮  2018 |

برلن(این این آئی)جرمنی کی پارلیمنٹ کے لیے ماہرین کی تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترکی کی شام میں فوجی موجودگی بین الاقوامی قانون کے مطابق اس ملک پر چڑھائی کے معیار پر پورا اْترتی ہے۔جرمن ٹی وی کے مطابق جرمن لیفٹ پارٹی کی درخواست پر پارلیمان کی

ریسرچ سروس نے یہ رپورٹ تیار کی ۔اس میں ترک فوج کی شام کے شمالی علاقے میں موجودگی کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا گیا ہے۔ترکی کا اس وقت شام کے شمال مغرب میں ایک بڑے علاقے پر کنٹرول ہے۔اس میں سرحدی شہر الباب ، جرابلس اور اعزاز بھی شامل ہیں۔ ترک فوج اور اس کے اتحادی شامی باغیوں نے اگست 2016ء میں داعش کے خلاف شروع کیے گئے آپریشن فرات کی ڈھال کے دوران میں ان علاقوں پر قبضہ کیا تھا۔ترکی نے اس سال شام کے شمال مغربی صوبے عفرین پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔اس پر پہلے کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس ( وائی پی جی) کا کنٹرول تھا۔ ترکی اس کرد ملیشیا کو اپنے جنوب مشرقی علاقوں میں ترک سکیورٹی فورسز کے خلاف برسرپیکار کرد باغیوں کے کالعدم گروپ کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کی توسیع قرار دیتا ہے۔ترکی نے اس مسلح گروپ کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔جرمن ماہرین کی رپورٹ کے مطابق جب شام کے شمال میں عفرین ، اعزاز ، الباب اور جرابلس میں ترکی کی فوجی موجودگی کا جائزہ لیا گیا ہے تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ موجودگی بین الاقوامی قانون کے مطابق فوجی چڑھائی کے معیار پر بالکل پورا اترتی ہے۔جرمن پارلیمان میں لیفٹ پارٹی کی ڈپٹی چیئرمین سیویم داغدلین نے چانسلر اینجیلا میرکل کی حکومت کو شام میں ترکی کی فوجی سرگرمیوں کا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے طور پر جائزہ نہ لینے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ ایک سکینڈل ہے کہ ترکی نیٹو کے ایک اتحادی کی حیثیت سے شام کے بعض علاقوں میں داخل ہوا ہے اور اس کی فوجی چڑھائی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے طور پر نہیں دیکھا جارہا ہے حالانکہ تمام ماہرین کی رپورٹس میں اس کو خلاف ورزی ہی قراردیا گیا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کا بھی یہی موقف ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…