منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

علی رضا عابدی کے قتل کے بعد کن لوگوں کا نمبر ہے؟ بڑے پولیس افسران کو فون پر کیا دھمکیاں دی گئیں؟ حامد میر کے چونکا دینے والے انکشافات

datetime 26  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سیاست دان اختلافات رکھیں لیکن ان کو اپنے اصل دشمن سے بے خبر نہیں ہونا چاہیے، یہ بات معروف صحافی حامد میر نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں کہی، انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے رہنما علی رضا عابدی کو سکیورٹی فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری تھی،

ان کا قتل خطرے کی گھنٹی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ علی رضا عابدی کے قتل کی خبر بہت افسوناک ہے، علی رضا عابدی کچھ روز پہلے مجھے اسلام آباد میں ملے تھے، معروف صحافی نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصے سے علی رضا عابدی کو کہا جا رہا تھا کہ ان کی زندگی کو خطرہ ہے، انہوں نے کہا کہ یہ صوبائی اور وفاقی حکومت کی ذمہ داری تھی کہ دھمکیاں ملنے پر انہیں سکیورٹی فراہم کی جاتی۔ معروف صحافی نے کہا کہ علی رضاعابدی کا قتل ایک خطرے کی گھنٹی ہے کہ ایک سابق رکن قومی اسمبلی کو فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا ہے، حامد میر نے کہا کہ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بھی بڑا چیلنج ہے کہ وہ علی رضاعابدی کے قاتلوں کا کھوج لگائیں۔ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی نے کہا کہ اگر کراچی میں دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے تو پھر بیس سے پچیس سیاستدانوں کو کیوں یہ کہا جا رہا ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے، معروف صحافی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسلام آباد میں بڑے پولیس افسران کو کہا جا رہا ہے کہ کہیں پارک میں جاکر سیر نہ کریں کیونکہ آپ کی جان کوخطرہ ہے، انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ سکیورٹی ایجنسیوں کے پاس خبر ہے لیکن یہ ریاست کی ہی ذمہ داری ہے کہ اگر کسی کی جان کو خطرہ ہے تو وہ اسے تحفظ فراہم کرے۔  انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے رہنما علی رضا عابدی کو سکیورٹی فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری تھی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…