اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

بر وقت الزائم کا پتہ لگا یا جا سکتا ہے

datetime 21  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈ یسک ) تحقیقات کی روشنی میں ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اب دماغ پر جمے پلاک کی مدد سے الزائمر کے مرض کا شکار ہونے کے خطرے سے پیشگی آگہی ممکن ہوگی۔ دماغ میں جما یہ پلاک ایمیلائیڈ پلاک کہلاتا ہے اور یہ الزائمر کے مریضوں میں پایا جاتا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس پلاک کی بنیاد پر مرض کی شناخت کے علاوہ الزائمر کے خطرے سے پیشگی آگہی بھی ممکن ہوگی جو کہ اس کے علاج کے امکانات کو بھی روشن کردے گی۔
تحقیقی ریسرچ جرنل جیما میں شائع ہونے والی دو رپورٹس کے مطابق بیٹا ایمالائیڈ کا الزائمر کے مرض میں مرکزی کردار ہوتا ہے۔ یہی بیٹا ایملائیڈ دراصل اس پلاک کو پیدا کرتا ہے۔ اس مقصد کیلئے ماہرین نے پانچ براعظموں سے ساڑھے نو ہزار افراد کے اعداد و شمار اکھٹا کئے تھے۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ دماغ میں یہ پلاک بھولنے کی بیماری شروع ہونے سے بیس سے تیس برس پہلے سے بننا شروع ہوجاتا ہے۔ انسانی جسم میں موجود اے پی او ای فور نامی جین جو کہ الزائمر کا خطرہ بڑھاتا ہے، اس پلاک کے بننے کے عمل کو تیز کردیتا ہے۔ اسی تحقیق میں تجرباتی سطح پر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایمیلائیڈ کی پیٹ سکین یا پھر ریڑھ کی ہڈی میں پائے جانے والے پانی کے ٹیسٹ کی مدد سے پتہ چلایا جاسکتا ہے اور پھر اس پلاک کے بننے کے عمل کو ادویات کی مدد سے روکا جاسکتا ہے۔ امکان ہے کہ اگر پلاک بننے کا عمل روک دیا گیا تو الزائمرکا خطرہ بھی کم ہوجائے گا۔ اس سے قبل ایمیلائیڈ کے خاتمے کیلئے ادویات جن مریضوں کو دی گئیں ان کے دماغ پہلے سے ہی پلاک کے سبب بری طرح نقصان کا شکار ہوچکے تھے جبکہ کچھ ممکنہ طور پر صرف بھولنے کی بیماری کا شکار تھے اور انہیں الزائمر کا مرض نہیں تھا۔اس تحقیقی رپورٹ کے مصنف ڈاکٹر راجر روزنبرگ کہتے ہیں کہ ایمیلائیڈ کیلئے کوئی بھی دوا صرف اسی صورت میں موثر ہوسکتی ہے جبکہ سکریننگ کے ذریعے اس امر کی تصدیق ہوجائے کہ درحقیقت مریض کے دماغ میں پلاک موجود ہے۔
یہ تحقیق اگرچہ انقلابی نوعیت کی ہے تاہم ماہرین نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ وہ تاحال اس پلاک کے خاتمے کیلئے کوئی دوا تیار نہیں کرسکیں اور اس پلاک کی موجودگی کیلئے کئے جانے والے ٹیسٹ انشورنس میں نہیں آتے ہیں۔ دوسری جانب یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ یہ پلاک تیس برس کی عمر میں دماغ میں بننے لگ جاتا ہے ایسے میں الزائمر کے خطرے سے بچنے کیلئے اگر اس پلاک کو ختم کرنے کیلئے ادویات کا استعمال شروع کردیا جائے تو یہ ایک صحت مند شخص کے ساتھ ظلم ہوگا کیونکہ اسے ایک ایسے مرض کی ادویات دی جائیں گی جس کا وہ شکار ہی نہیں ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…