ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان نے سائنسی تحقیق میں چین کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا بھر میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی،بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ

datetime 25  دسمبر‬‮  2018 |

کراچی(نیوزڈیسک)پاکستان نے سائنسی تحقیق میں چائنا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا بھر میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ہے۔معروف بین الاقوامی اشاعتی ادارے Clarivate Analytics نے دنیا بھر میں شائع ہونے والی سائنسی تحقیقات کا تخمینہ لگایا ہے جس کی رپورٹ نیچر ڈاٹ کام نامی ویب سائٹ پر شائع کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کے اندر رواں سال سائنسی تحقیق کی شرح میں 15.9 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ مصر میں یہ شرح 21 فیصد تک پہنچ گئی ہے

جس کے باعث وہ پہلے نمبر پر آگیا ہے۔واضح رہے کہ یہ رینکنگ شائع ہونے والی کل سائنسی تحقیقات سے متعلق نہیں بلکہ اس بات پر مبنی ہے کہ کون سے ممالک نے ماضی کے برعکس حال میں سائنسی تحقیق تیز کردی ہے۔ مثال کے طور پر اگر پاکستان میں2017میں ایک ہزار ریسرچ پیپر شائع ہوئے تھے تو 2018 میں یہ تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے۔پاکستان اور مصر میں اچانک اس قدر تیزی کے پیچھے عوامل واضح نہیں ہیں تاہم ماہرین کے مطابق یہ اضافہ بیرون ممالک سے تحقیق کے لیے دیے جانے والے فنڈز کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ندر لینڈز کی لیدن یونیورسٹی میں سائنس اینڈ اینوویشن اسٹڈیز کے سربراہ رابرٹ تیجسن نے کہاہے کہ پاکستان اور مصر دونوں نے بالکل نچلی سطح سے آغاز کیا تھا اور 40 ممالک کی فہرست میں بالکل آخری نمبروں پر تھے۔رپورٹ کے مطابق چین کی سائنسی تحقیقات میں 15 فیصد اضافہ ہوا جس کے باعث وہ تیسرے نمبر پر چلا گیا جبکہ انڈیا، برازیل، میکسیکو اور ایران میں 2017 کے مقابلے میں رواں سال محض 8 فیصد اضافہ ہوا۔عالمی سطح پر 2018 میں سائنسی تحقیقات کی شرح میں 5 فیصد اضافہ ہوا۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال 16 لاکھ، 20 ہزار، 731 سائنسی ریسرچ پیپرز شائع ہوئے جو ماضی کے برعکس سب سے زیادہ ہے۔اوہیو اسٹیٹ یونیورسٹی میں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ماہر اور

امریکی حکومت کے سابق مشیر کیرولین واگنر کا کہنا ہے کہ چین نے دو دہائیوں تک مربوط پالیسی کے تحت سائنسی تحقیق اور اعلی تعلیم کی شرح میں اضافہ کیا۔ ہوسکتا ہے چین بہت جلد ریسرچ پیپرز شائع کرنے میں امریکا کو پیچھے چھوڑ دے مگر اس کے لیے چین کو عالمی اثر و رسوخ کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھنے پڑیں گے۔انہوں نے کہا کہ چین کے سائنسدان بھی اس بات کی شکایت کر رہے ہیں کہ انٹرنیٹ پر سنسرشپ اور ویب سائٹس بلاک ہونے کے باعث ان کی تحقیق متاثر ہورہی ہے۔ چین کی یہ صورتحال دوسرے ممالک کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے کہ انٹرنیٹ سنسرشپ سائنسی تحقیقات کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…