اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

سندھ کابینہ کے دواراکین جہاز سے آف لوڈ کراچی سے کہاں جارہے تھے؟ وجہ کیا بنی ؟

datetime 25  دسمبر‬‮  2018 |

کراچی(نیوز ڈیسک)وزیراعلی سندھ مرادعلی شاہ کے معاون خصوصی وقار مہدی اورراشد ربانی کو کنفرم ٹکٹ ہونے کے باوجود پی آئی اے کی کراچی سے سکھر جانے والی فلائٹ پی کے 530سے آف لوڈ کر دیاگیا۔پیپلزپارٹی کے دونوںرہنما بینظیر بھٹو شہید کی برسی کی تقریب میں شرکت کے لیے سکھر جا رہے تھے۔اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے رہنما وقارمہدی نے بتایاکہ پی آئی اے کی

پرواز پی کے530 کے لیے ہم نے 15 روز قبل ٹکٹ بک کرائی اور ائیرپورٹ 10:45 پر پہنچے تھے جبکہ فلائٹ کا ٹائم 12 بجے کا تھاہمیں بورڈنگ کارڈ نہیں دیا گیا، ہماری نشستیں کسی اور کو دے دی گئیں، ہمیں پی آئی اے نے آگاہ بھی نہیں کیا، اب شام 5 بجے کی کراچی سے سکھر پرواز پر بکنگ کی گئی ہے۔وقار مہدی نے کہاکہ پیپلزپارٹی کونشانہ بنایا جارہا اور جان بوجھ کر آف لوڈ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپوزیشن کو تنگ کیا جارہا ہے، پی آئی اے کائونٹر پر احتجاج کیا لیکن کسی نے ایک نہ سنی۔انہوں نے بتایاکہ پی آئی اے حکام کو آگاہ کیاکہ ٹکٹ کنفرم ہے اس کے باوجود ہمیں یہ کہہ کر روکا گیا کہ جگہ نہیں ہے۔اس ضمن میں پی آئی اے کے ترجمان مشہود تاجور نے بتایاکہ پیپلز پارٹی کے رہنما وقار مہدی اور راشد ربانی کو ہونے والی زحمت پر معذرت خواہ ہیں۔ پی آئی اے کائونٹر پر احتجاج کیا لیکن کسی نے ایک نہ سنی۔انہوں نے بتایاکہ پی آئی اے حکام کو آگاہ کیاکہ ٹکٹ کنفرم ہے اس کے باوجود ہمیں یہ کہہ کر روکا گیا کہ جگہ نہیں ہے۔اس ضمن میں پی آئی اے کے ترجمان مشہود تاجور نے بتایاکہ پیپلز پارٹی کے رہنما وقار مہدی اور راشد ربانی کو ہونے والی زحمت پر معذرت خواہ ہیں۔سکھر کے لیے پروازوں پر بہت زیادہ رش اور آپریشنل وجوہات کی بنا پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنی پڑ جاتی ہے اور ائیر لائن کے پاس اختیارات ہیں کے وہ کسی کی بھی سیٹ تبدیل کرسکتی ہے۔ترجمان نے بتایا کہ ہم نے پیپلزپارٹی رہنمائوں کو شام کی پرواز آفر کی ہے اگر وہ جانا چاہیں تو جاسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…