ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

گولیوں سے بھون ڈالو انہیں۔۔۔ بھارتی وزیراعلیٰ موبائل پر قتل کا حکم دیتےپکڑا گیا ویڈیو وائرل ہو گئی

datetime 25  دسمبر‬‮  2018 |

کرناٹک(نیوز ڈیسک) بھارتی ریاست کرناٹک کے وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی کو کیمرے کی آنکھ نے موبائل فون پر بے رحمانہ قتل کی ہدایت دیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑلیا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اپنے سیاسی حریفوں کی بدعنوانی کے الزامات پر مشتمل آڈیو اور وڈیو سی ڈی جاری کرنے والے کرناٹک کے وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کیمرے کے سامنے قتل کی ہدایت دے بیٹھے۔

بھارتی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ کمارسوامی موبائل فون پر بات کرتے ہوئے میڈیا کی موجودگی اور لمحے لمحے کو محفوظ کرتے کیمروں کو نظر انداز کر گئے اور کال کرنے والے کو بے رحمانہ شوٹ آوٹ کی ہدایت دے بیٹھے۔وزیراعلیٰ کمار سوامی کی جماعت جنتا دَل پارٹی (سیکولر) کے مقامی رہنما پرکاش کو قتل کردیا گیا تھا جس کی اطلاع فون پر آئی تو وزیراعلیٰ نے فون پر ہدایت جاری کی کہ پرکاش اچھا آدمی تھا مجھے نہیں معلوم کس نے بے ضرر آدمی کو قتل کیا، قاتلوں کا بے رحمانہ شوٹ آئوٹ کردو، کوئی مسئلہ نہیں ہے۔سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے اور شدید تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے بعد وزیراعلیٰ کمار سوامی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور بے رحمانہ شوٹ آوٹ کی ہدایت کو جذباتی ردعمل قرار دیتے ہوئے دفاعی بیان داغ ڈالا۔ترجمان وزیراعلیٰ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مقامی رہنما پرکاش کے بہیمانہ قتل پر وزیراعلیٰ دل گرفتہ ہیں، ویڈیو میں کہے گئے الفاظ ہدایت نہیں بلکہ جذباتی طور ادا ہوجانے والے کلمات تھےرجمان وزیراعلیٰ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مقامی رہنما پرکاش کے بہیمانہ قتل پر وزیراعلیٰ دل گرفتہ ہیں، ویڈیو میں کہے گئے الفاظ ہدایت نہیں بلکہ جذباتی طور ادا ہوجانے والے کلمات تھے۔واضح رہے کہ جنتا دل کے مقامی رہنما کو نامعلوم حملہ آوروں نے اس وقت گولیاں مار کر قتل کردیا تھا جب وہ اپنی کار میں کرناٹک کے ضلع مندیا جارہے تھے کہ مدور کے مقام پر ان کی کار پر فائرنگ کی گئی۔ کرناٹک میں جنتا دل اور کانگریس کی مخلوط حکومت قائم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…