اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

سیاسی فیصلے عدالتیں کریں گی تو نقصان آصف زرداری اورنواز شریف کو نہیں بلکہ کس کو ہوگا؟علی احمد کرد نے خبردارکردیا

datetime 24  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)مشہور قانون دان اور سپریم کورٹ کے وکیل علی احمد کرد نے کہا ہے کہ سیاسی فیصلے اگر عدالتیں کریں گی تو اس کا نقصان آصف زرداری، نواز شریف یا کسی اور کو نہیں عدلیہ اور ملکی جوڈیشل سسٹم کو ہو گا،اداروں کو مضبوط کرتے کرتے عدلیہ اپنی عزت گنوا بیٹھے تو فائدہ نہیں نقصان ہوتا ہے ٗ حکومت کی بجائے اپوزیشن کے بیانئے کو عوام میں مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔

نجی ٹی وی سے کرتے ہوئے سینئر قانون دان علی احمد کرد نے کہاکہ ہمیں بحیثیت قوم ہیجان اور بے چینی کی عادت ہو گئی ہے ،ہم ہائی پروفائل کیسز میں ٹمپریچر کو اتنا اوپر لے جاتے ہیں کہ ہر بندہ ہی رائے زنی شروع کر دیتا ہے،اس وقت عام عوام کی رائے یہی ہے کہ میاں نواز شریف کو سزا ہونے جا رہی ہے لیکن کیا نواز شریف کو سزا ہونے سے اس ملک کی سیاست سے ان کا رول ختم ہو جائے گا؟کیا اس کا کسی کو کوئی فائدہ ہو گا؟کیا حکومت کے بقول ایک چور کو سزا ہونے سے ملکی سیاست سے ان کا کردار ختم ہو جائیگا ؟ علی احمد کرد نے کہاکہ دوسرے ملکوں میں سیاسی جماعتوں کے بیانئے ،ان کے منشور اور ان کے جلسے جلوسوں سے سیاست ڈویلپ ہوتی ہے اور ملک ترقی کی طرف بڑھتا ہے لیکن ہمارے ملک میں پتا نہیں کیا ہو رہا ہے ؟یہاں تو صرف عدالتیں نظر آ رہی ہیں،ہمارے ملک کی سیاست کو چھوٹی بڑی عدالتیں کنٹرول ،ریگولیٹ اور مانیٹر کر رہی ہیں ٗسیاسی فیصلے اگر عدالتیں کریں گی تو اس کا نقصان آصف زرداری، نواز شریف یا کسی اور کو نہیں عدالتوں اور ملکی جوڈیشل سسٹم کو ہو گا ،اداروں کو مضبوط کرتے کرتے اگر عدلیہ اپنا ہی تقدس ،احترام اور عزت کھو بیٹھے تو کیا یہ فائدے کی بات ہے ؟اس وقت کیا یہی نہیں ہو رہا ؟ عدالتوں کا کام نہیں ہے کہ وہ حکومتوں کو ڈکٹیشن دے کہ آپ ایسے کریں ،قانون سازی کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو ہے ،عدالتیں حکومت کو قانون بنا کر نہیں دے سکتی،احتساب عدالت کے فیصلوں کو سامنے رکھ کر بات کرنی چاہیئے تاکہ اگر قانون میں ترامیم کی ضرورت ہے تو وہ کی جائے،عدالتوں میں نقص پیدا کیا جارہا ہے اور انہیں اپنی مرضی سے چلایا جارہا ہے،

یہ بات صیحح نہیں ہے اور عام آدمی کو بھی اس بات کی سمجھ آ رہی ہے ،عدالتوں کو صرف اپنا کام کرنا چاہئے ،پس پردہ کوئی اور بھی چیزیں ہیں۔علی احمد کرد نے کہا کہ الیکشن کے زمانے میں ہر پارٹی بڑے خوبصورت اور پر کشش نعروں کی تلاش میں ہوتی ہے اور ان نعروں کی بنیاد پر الیکشن لڑتی ہے ،مجھے افسوس ہے کہ اب تو الیکشن ہوئے بھی تین ماہ سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے لیکن حکومت ابھی تک کرپشن کرپشن کے نعرے لگا رہی ہے اور اب تک کوئی تبدیلی نہیں آئی جس کی عوام کو توقع تھی،ابھی بھی ہم مانگے تانگے کے پیسوں سے حکومت چلا رہے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…