پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

اب کیا ہوگا؟نواز شریف کی جانب سے دفاع میں کمزوریاں ،قانون کے تحت ایک سے زیادہ مقدمات میں سزا سنائی جا چکی ہو تو کیا ہوتاہے؟ماہر قانون نے وضاحت کردی

datetime 24  دسمبر‬‮  2018 |

لاہور( نیوزڈیسک )قومی احتساب بیورو کے سابق ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ذوالفقار بھٹہ نے کہا ہے کہ نواز شریف کی جانب سے دفاع میں کمزوریاں نظر آتی ہیں، قانون کے تحت ایک سے زیادہ مقدمات میں اگر سزا سنائی جا چکی ہو تو اس صورت میں مشکل ہوگا کہ سزا معطل کی جا سکے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب کسی شخص کے خلاف ایک سے زیادہ ریفرنسز ہوں تو انہیں سخت گیر سمجھا جاتا ہے اور نواز شریف کو اس سے پہلے ایون فیلڈ کیس میں سزا سنائی جا چکی ہے اور اب العزیزیہ کیس میں بھی سزا سنا دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دفاع میں اس مرتبہ تکنیکی غلطیاں کی گئی ہیں، دفاع کے لیے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے اور عام طور پر استغاثہ سے کہا جاتا ہے کہ وہ شواہد پیش کرے کہ کیا استغاثہ کے پاس مکمل شواہد ہیں؟ لیکن جب دفاع کی جانب سے کوئی خاص نقطہ یا پہلو اٹھایا جاتا ہے، جیسے پہلے قطری خط کا ذکر کیا گیا تھا تو ایسی صورت میں دفاع سے کہا جاتا ہے کہ اس کے شواہد پیش کریں۔ اس مرتبہ دفاع کی جانب سے فعال کردار سامنے نہیں آیا اور اس میں ماہرین نہ کچھ کمزوریاں دیکھیں ہیں۔انہوں نے حسن اور حسین کومفرور قرا ردئیے جانے کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اس میں شہریت کا معاملہ آ جاتا ہے اور یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس کا براہ راست اس کیس سے کوئی تعلق ہے اور اگر کسی ملک سے ملزمان کو لانے کے لیے رابطہ کیا جاتا ہے تو اس صورتحال میں اس ملک کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ اس مقدمے میں ملزم کس حد تک ملوث ہے اور اس کے علاوہ وہاں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کیا یہ مقدمات سیاسی بنیادوں پر تو نہیں اور انتقامی کارروائیاں ہو رہی ہیں،اس صورتحال میں ان کو یہاں لانا مشکل ہو جائے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…