منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

آپ کو پتا ہے ڈاکٹر شاہد مسعود نے میرے بارے میں بڑی نامناسب باتیں کر رکھی ہیں مگر یہ زیادتی ہے!!حامد میر اپنے پر الزامات لگانے والے کی کیا سفارش لیکر وزیراعظم عمران خان کے پاس پہنچ گئے، وہاں کیا باتیں ہوئیں؟

datetime 24  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سرگودھا یونیورسٹی لاہور کیمپس کے پروفیسر میاں جاوید کی ہتھکڑیوں میں لاش کی تصاویر نے جہاں ہر کسی کو پریشان کر دیا ہے وہیں صحافتی حلقوں کی جانب سے اس انسانیت سوز عمل پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ معروف صحافی حامد میر اپنے کالم میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ سچ تو یہ ہے کہ جس دن عمران خان اسلام آباد میں وزیراعظم ہائوس کو یونیورسٹی

بنانے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے عین اُسی دن لاہور کی کیمپ جیل میں میاں محمد جاوید سردی سے ٹھٹھر کر مر رہا تھا۔ عمران خان کی تقریر پر بار بار تالیاں بج رہی تھیں۔ جب اُنہوں نے پاکستان میں غیر مسلموں کو تحفظ دینے پر زور دیا اور کہا کہ ہمیں نریندر مودی کو بتانا ہے کہ پاکستان کی اقلیتیں بھارت کی اقلیتوں سے زیادہ محفوظ ہیں تو میں نے بھی تالی بجائی۔ابھی پچھلے ہی ہفتے میں نے مشہور ٹی وی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود کی ہتھکڑیوں میں تصویر دیکھی تو سوچنے لگا کہ اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات میں مقدمات کا سامنا کرنیوالے کسی سیاستدان کو عدالت میں ہتھکڑیاں لگا کر پیش نہیں کیا جاتا لیکن چند کروڑ کی کرپشن کے الزام میں ملوث ڈاکٹر شاہد مسعود کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کرنا کیوں ضروری تھا؟ میں نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی درخواست کی تو انہوں نے بلا لیا۔ میں نے اُنہیں بتایا کہ آپ کو پتا ہے جب ڈاکٹر شاہد مسعود نے سرکاری ٹی وی کی سربراہی قبول کی تو میرا موقف تھا کہ صحافیوں اور اینکرز کو سرکاری عہدے نہیں لینا چاہئیں جسکے بعد ڈاکٹر شاہد مسعود نے میرے بارے میں بڑی نامناسب باتیں کیں۔ کراچی میں مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو اُنہوں نے اسے ڈرامہ قرار دیا یہاں تک کہا کہ حامد میر کو گولیاں نہیں لگیں حالانکہ دو گولیاں ابھی تک میرے جسم کے اندر ہیں۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ موصوف پر کیا الزام ہے،

معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، فیصلہ بھی عدالت کو کرنا ہے۔ مجھے صرف یہ پوچھنا ہے کہ اگر شہباز شریف، سعد رفیق، شرجیل میمن اور دیگر سیاستدانوں کو ہتھکڑیوں کے بغیر عدالتوں میں لایا جاتا ہے تو ڈاکٹر شاہد مسعود کو ہتھکڑی کیوں لگائی گئی؟ وہاں موجود نعیم الحق صاحب نے میرے موقف کی تائید کی اور وزیراعظم نے وعدہ کیا کہ وہ اس معاملے کی انکوائری کرینگے۔

کچھ دن پہلے میں ایک زندہ انسان کی عزتِ نفس کو مجروح کرنے کا معاملہ لے کر عمران خان کے پاس گیا تھا، اب ایک لاش کی عزتِ نفس مجروح ہونے پر مجھے توقع تھی کہ عمران خان کچھ نہ کچھ ضرور کہیں گے کیونکہ مدینہ کی ریاست میں یہ ظلم ناقابل برداشت ہے۔ مجھے انتظار ہی رہا اور عمران خان اپنی تقریر ختم کر کے واپس چل دیئے۔ میں سوچ رہا تھا کہ اگر قائداعظم کے پاکستان میں انصاف ہار گیا تو تحریک انصاف کیسے جیتے گی؟ میاں محمد جاوید نے پاکستان توڑا نہ آئین توڑا لیکن اُسے سزا مل گئی۔ یہاں آئین توڑنے والے کو سزا نہیں ملتی تو پھر یہ مدینہ کی ریاست کیسے بنے گی؟ ہتھکڑی والی لاش کی تصویر انصاف کا نوحہ ہے، انصاف کی موت پر مجھے نیند نہیں آئی تو حکمرانوں کو نیند کیسے آ جاتی ہے؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…