منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی خاتون سے شادی کرنے والے پاکستانی شہری کو 10 سال جیل میں گزارنے کے بعد رہائی کا پروانہ مل گیا ،افسوسناک انکشافات

datetime 22  دسمبر‬‮  2018 |

لاہور / نئی دہلی(این این آئی) بھارتی خاتون سے شادی کرنے والے پاکستانی شہری عمران وارثی کو 10 سال جیل میں گزارنے کے بعد رہائی کا پروانہ مل گیا ہے اور انہیں چند روز میں واہگہ بارڈر بارڈر پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا جائے گا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق حامد انصاری کی رہائی کے جواب میں بھارت میں قید پاکستانی شہری عمران وارثی کو بھی رہائی کی نوید مل گئی ہے، کراچی کا رہائشی 36 سالہ عمران وارثی 10 سال سے بھارتی جیل میں ہے،

عمران وارثی کو چند روز میں پاکستانی حکام کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے۔ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے عمران وارثی کو رہا کیے جانے کی تصدیق کی ہے تاہم ابھی یہ طے نہیں ہوسکا کہ اسے کس دن پاکستان کے حوالے کیا جائے گا۔عمران وارثی 26 دسمبر 2003 کو واہگہ بارڈرکے راستے ویزا لے کر بھارت گیا تھا، عمران وارثی بھارت میں اپنی کزن سے محبت کرتا تھا، اسی سے شادی کے لیے بھارت گیا،اس نے اپنی کزن سے شادی کے بعد واپس پاکستان آنے کی بجائے بھارت میں ہی قیام کرلیا۔شادی کے بعد عمران وارثی کے دو بچے بھی پیدا ہوئے، عمران کے سسرال والوں نے اسے واپس پاکستان آنے کی بجائے بھارت میں ہی قیام کا مشورہ دیا تھا اور اس نے بھارتی دستاویزات تیار کروالیں، عمران وارثی اپنی بھارتی بیوی اوربچوں کے ساتھ بھارت میں مقیم ہوگیا تاہم چند سال بعد اس کے چند سسرالی رشتہ داروں نے اس کے بارے مقامی پولیس کو آگاہ کردیا، 2007 میں عمران وارثی کو بھوپال سے گرفتار کرلیا گیا۔بھارتی ایجنسیوں نے اس پرجاسوسی کا الزام لگا کر جیل بھجوا دیا ٗپاکستانی شہری کو 10 سال کی سزاسنائی گئی جو 19 جنوری 2018 کومکمل ہوگئی تھی ، سزا مکمل ہونے کے بعد بھی عمران وارثی کو رہا نہ کیا گیا، 14مارچ 2018 کو عمران وارثی کو جیل سے بھوپال کے ایک گارڈین سینٹر منتقل کردیا گیا، عمران وارثی اب شاہ جہاں آباد کے گارڈین سینٹرمیں ہے۔عمران وارثی کی رہائی کے لیے پاکستانی سہائی کمیشن اور مختلف این جی اوز نے بھی اہم کردار اداکیا ہے، عمران وارثی کی بیوی اور دو بچوں کا کیا ہوگا اس کا ابھی فیصلہ نہیں ہوسکا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…